سی ایم جی کے رپورٹر کا اسرائیل فلسطین حالیہ تنازعہ کے حوالےسے کہنا ہے کہ اگرچہ تمام فریق اس وقت غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے امکانات پر امید نہیں ہیں کیونکہ تمام فریقوں کے موقف میں اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے ایک مثبت رجحان ظاہر ہوتاہےلیکن تمام فریقوں کو اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم اب بھی جاری ہےاور اس طرح کی مسلسل فوجی کارروائی سے مذاکراتی عمل کو شدید خطرہ لاحق ہے اور تشدد میں اضافہ مذاکرات کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ثالثی کو مشکلات کا سامنا ہے۔امریکہ، قطر اور مصر اہم ثالث ہیں لیکن ہر فریق کے مفادات اور موقف میں واضح فرق ہے، یہ کثیر جماعتی ثالثی ماڈل مذاکرات کی پیچیدگی کو بڑھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثالثین کی طرف سے تنازع کے دونوں فریقوں پر خاطر خواہ اور موثر اثرات مرتب کرنا مشکل ہے، خاص طور پر امریکہ جس نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے کبھی عملی اور موثر طریقے سے اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا ۔
اسرائیل کے پاس غزہ کے لیے جنگ کے بعد کا کوئی واضح اور مکمل منصوبہ نہیں ہے اور اس نے فلسطینی حکومت کو جنگ کے بعد غزہ کے انتظام میں حصہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل میں سخت گیر سیاسی قوت جنگ بندی کی شدید مخالفت کرتی ہے اور غزہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ اس سے جنگ بندی کے مذاکرات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
Trending
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔