سی ایم جی کے رپورٹر کا اسرائیل فلسطین حالیہ تنازعہ کے حوالےسے کہنا ہے کہ اگرچہ تمام فریق اس وقت غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے امکانات پر امید نہیں ہیں کیونکہ تمام فریقوں کے موقف میں اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے حوالے سے ایک مثبت رجحان ظاہر ہوتاہےلیکن تمام فریقوں کو اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم اب بھی جاری ہےاور اس طرح کی مسلسل فوجی کارروائی سے مذاکراتی عمل کو شدید خطرہ لاحق ہے اور تشدد میں اضافہ مذاکرات کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ثالثی کو مشکلات کا سامنا ہے۔امریکہ، قطر اور مصر اہم ثالث ہیں لیکن ہر فریق کے مفادات اور موقف میں واضح فرق ہے، یہ کثیر جماعتی ثالثی ماڈل مذاکرات کی پیچیدگی کو بڑھاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ثالثین کی طرف سے تنازع کے دونوں فریقوں پر خاطر خواہ اور موثر اثرات مرتب کرنا مشکل ہے، خاص طور پر امریکہ جس نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے کبھی عملی اور موثر طریقے سے اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا ۔
اسرائیل کے پاس غزہ کے لیے جنگ کے بعد کا کوئی واضح اور مکمل منصوبہ نہیں ہے اور اس نے فلسطینی حکومت کو جنگ کے بعد غزہ کے انتظام میں حصہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل میں سخت گیر سیاسی قوت جنگ بندی کی شدید مخالفت کرتی ہے اور غزہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ اس سے جنگ بندی کے مذاکرات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
Trending
- پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔