بیجنگ:4 نومبر کو 136 واں کینٹن میلہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ نجی کاروباری ادارے جو اس میلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہ چین کی غیر ملکی تجارت کی مرکزی طاقت ہیں۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کے نجی کاروباری اداروں کی درآمد اور برآمد 17.78 ٹریلین یوآن رہی، جو چین کی کل غیر ملکی تجارتی قدر کا 55فیصد ہے اور مجموعی غیر ملکی تجارت کی نمو میں شراکت کی شرح 93.8 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے چین کی غیر ملکی تجارت کی ترقی میں نئی تحریک پیدا ہوئی.
اس سال کینٹن میلے میں نمائش کے لئے پیش کی جانے والی نئی مصنوعات کو دیکھتے ہوئے روایتی فائدہ مند مصنوعات کے علاوہ زیادہ متنوع ہائی ٹیک مصنوعات اور سروسز موجود رہیں، جو چین کی غیر ملکی تجارت کی اعلی معیار کی ترقی کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے، ذہانت. اس سال نمائش شدہ ڈیجیٹل مصنوعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسرا گرین پراڈکٹس۔ پہلی بار ہائیڈروجن توانائی کو نئے توانائی نمائشی زون میں شامل کیا گیا اور ہائیڈروجن سائیکلوں جیسی سبز اور کم کاربن مصنوعات مقبول پراڈکٹس بن گئیں جو چین کی غیر ملکی تجارت کے سبز ترقی کے رجحان کو اجاگر کرتی ہیں. تیسرا پہلو برانڈنگ ہے اور چوتھا خدمات ۔اسمارٹ لاجسٹکس اور اسمارٹ آمدورفت کی نمائش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چین کی خدمات چین کی مینوفیکچرنگ کی طرح عالمی سطح پر مسابقتی ہیں ، جو چین کی غیر ملکی تجارت کی ترقی کے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔
Trending
- اوکاڑہ: 3 ملزمان کی لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پر نازیبا حرکات، اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا
- پاکستان کا ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- سر پال میک کارٹنی نے آخر کار اپنے پسندیدہ دی بیٹلس ممبر کا نام لیا۔
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
- سابق ملکہ حسن اور ماڈل اداکارہ کی پُراسرار موت؛ جج ساس گرفتار
- صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔