جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جرمن چانسلر اولاف شولز نے حزب اختلاف کی جانب سے 13 نومبر کو حکومت پر اعتماد کا ووٹ لینے کی درخواست قبول نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان کے ایوان زیریں میں موجود دھڑے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ پاتے تو ضرورت پڑنے پر شولز خود ووٹنگ کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ 10 نومبر کو جرمن چانسلر شولز نے کہا کہ وہ بنڈس ٹاگ کی جانب سے حکومت پر اعتماد کا ووٹ لینے کی تاریخ رواں سال 25 دسمبر سے قبل دے سکتے ہیں۔ جرمنی کے بنیادی قانون کے مطابق اگر شولز حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تو جرمن صدر چانسلر کی تجویز پر بنڈس ٹاگ کو تحلیل کر سکتے ہیں اور 60 دن کے اندر نئے انتخابات کروا سکتے ہیں۔ 11 نومبر کو جرمن پریس ایجنسی کی اطلاع کے مطابق جرمن سی ڈی یو کے رہنما میرز نے کہا کہ اگلے سال 16 یا 23 فروری کو انتخابات کی مناسب تاریخ ہے۔ میرز کو اگلے چانسلر کے عہدے کے لئے مضبوط امیدوار سمجھا جاتا ہے۔
Trending
- ایران سے پاکستان اربوں ایرانی ریال اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام
- بحری ناکہ بندی غیرقانونی، اشتعال انگیز غلطی ہے،ایرانی سفیر
- سوئیڈش ٹینس لیجنڈ بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
- کاروباری شخصیات کیلیے الگ پاسپورٹ سے متعلق بڑی خوشخبری
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو خوشخبری سنادی
- بھارتی کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
- پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
- مریم نواز کا کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
- پاکستان میں ہمیشہ معیاری فاسٹ بولرز پیدا ہوئے: کورٹنی والش