لاہور:بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی اسلامک اسکالر مولانا طارق جمیل نے مشترکہ خاندانی نظام کی مخالفت کر دی۔
مولانا طارق جمیل کے ایک بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اُنہیں ہمارے معاشرے میں عام مشترکہ خاندانی نظام کے خلاف بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا ہے کہ اس کائنات کا سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے جس کی اہمیت والدین اور اولاد سے بھی زیادہ ہے۔
مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہ اتنا خوبصورت رشتہ جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
کچھ صارفین مولانا طارق جمیل کی رائے سے اتفاق کرتے جبکہ کچھ صارفین اختلاف کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ایک صارف نے مولانا صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام پر پابندی کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔
ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ بالکل صحیح کہا، اسلام میں مشترکہ خاندان کا کوئی تصور نہیں ہے، ہم نے اس نظام کو ہندوستانی ثقافت سے اپنایا ہے۔
دوسری جانب ایک صارف نے مولانا طارق جمیل کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ والدین سے زیادہ اہم دنیا میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔
ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ہر نظام کے اپنے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں اس طرح مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا اس وقت تک نقصان دہ نہیں جب تک کہ خاندان کا ہر فرد اپنی حدود میں رہے اور اپنے خاندان میں شامل ہونے والے نئے ممبر کو ایک محفوظ جگہ فراہم کرے۔
Trending
- معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
- گلین میکسویل کی نوجوان کھلاڑیوں کو کیچ پکڑنے کا طریقہ سکھانے کی ویڈیو وائرل
- پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔