محمد البشیر کو یکم مارچ 2025 تک شام کی عبوری حکومت کا نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیا ہے۔اُدھر اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اسرائیلی فوج نے شام میں 320 اسٹریٹجک اہداف پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق شام کی 70 فیصد سے زائد عسکری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے اسی دن تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے 9 تاریخ کی رات سے 10 تاریخ کی علی الصبح تک شامی بحریہ کے متعدد جہازوں پر حملہ کیا۔ کاٹز نے کہا کہ اسرائیل جنوبی شام میں ہتھیاروں اور دہشت گردی کے خطرات سے پاک ایک "دفاعی زون” قائم کرے گا ، تاہم انہوں نے اس زون کی جغرافیائی سرحدوں کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اس زون کے قیام کے لئے اسرائیل کیا کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ، مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک اسرائیل کی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے 10 دسمبر کو ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی جانب سے 1974 کے شام۔ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی۔ اردن کے وزیر خارجہ صفادی نے 10 تاریخ کو کہا کہ اردن شام کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتا ہے۔ لبنانی حزب اللہ نے 10 تاریخ کو ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شام کی سرزمین پر مسلسل حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور شام میں استحکام ، اسرائیل کے خلاف مضبوط مزاحمت اور غیر ملکی افواج کی مداخلت کو روکنے کی امید کا اظہار کیا گیا۔
Trending
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔