بیجنگ : یورپی یونین میں چینی مشن کے وزیر پھینگ گانگ کی جانب سے ایک معروف یورپی میڈیا میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ چین میں “حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت” کا نام نہاد مفروضہ معروضی حقائق کے مطابق نہیں اور یہ مارکیٹ معیشت کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو ، “اوور کپیسٹی تھیوری” گرین فیلڈ کی ترقی کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی کیوں کہ موجودہ عالمی گرین فیلڈ کی پیداواری صلاحیت نسبتا ناکافی ہے ، اور اسے اب بھی بہت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ برآمدات “حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت”کے برابر نہیں۔ درحقیقت، امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک طویل عرصے سے عالمی مارکیٹ میں بڑی تعداد میں مصنوعات برآمد کرتے رہے ہیں۔مثلاً امریکہ میں تیار کردہ چپس کا تقریبا 80 فیصد برآمد کیا جاتا ہے.تاہم 2023 میں ، چین کی این ای وی برآمدات کل پیداوار کا صرف 12.7 فیصد تھیں۔ اگر ترقی یافتہ ممالک کی ترجیحی مصنوعات کی برآمد کو معمول اور معقول سمجھا جاتا ہے، تو چین اور دیگر ابھرتے ہوئے ممالک کی برآمدات کو حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت” کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ یہ واضح طور پر کھلا تضاد اور دوہرا معیار ہے. مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی ویلیو چین میں چین کی پوزیشن میں نمایاں بہتری کے ساتھ ، کچھ مغربی ممالک “چین کے معاشی خطرے” اور “چین کی حد سے زیادہ پیداواری صلاحیت” کے نام نہاد مفروضوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جو صرف اور صرف اپنے تحفظ پسند اقدامات اور تجارتی تنازعات کے لیے بہانے ہیں۔
Trending
- سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پھر اضافہ
- بحرین میں ایران کے لیے جاسوسی، 3 افراد کو عمر قید
- محکمہ موسمیات کا مون سون 2026 آؤٹ لک جاری، گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
- جنگ کے سائے میں بھی ایرانی ریال کی فروخت جاری نئے ریٹ سامنے آگئے
- پنجاب میں ایچیسن کے معیار کے بوائز اینڈ گرلز اسکول قائم کرنے کا فیصلہ
- عامر خان کی تیسری شادی پر شیکھر سمن نے کیا کہا؟ تبصرہ وائرل
- انیا ٹیلر-جوائے نے تیموتھی چالمیٹ کی ‘ڈیون’ کی تعریف پر زندہ دل جواب شیئر کیا۔
- ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرین کی تعداد 102 ہوگئی، صوبائی وزیر کا کارروائی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔