ہیفے (شِنہوا) یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ (یو ایس ٹی سی) کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ایک انقلابی بایو میمیٹک مصنوعی ہاتھ متعارف کرایا ہے جو انتہائی مہارت کے ساتھ بال بنانے، اسمارٹ فونز چلانے اور حتیٰ کہ پیچیدہ اشاروں کی زبان کے اشاروں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔
انسان کے ہاتھ کے افعال کی نقل کر نے والا یہ ہلکا پھلکا مصنوعی آلہ مصنوعی اور انسان نماروبوٹس بنانے میں ایک اہم پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں معذور افراد کے لیے امید کی کرن بن رہا ہے۔
یو ایس ٹی سی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر کہا ہے کہ یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی تھی۔
ایک انسانی ہاتھ 23 آزادی کے درجے (ڈی او ایف ایس) کا حامل ہے یعنی کہ وہ کتنی آزادانہ حرکتیں کر سکتا ہے، قدرتی انجینئرنگ کا ایک شاندار نمونہ ہے جو جسم کی مجموعی حرکاتی فعالیت کا 54 فیصد فراہم کرتا ہےحالانکہ اس کا وزن جسم کے وزن کے صرف ایک سو پچاسویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔
اکثر موٹرز سے چلنے والنے روایتی مصنوعی ہاتھ وزن اور افعال کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ زیادہ تر کا وزن 0.4 کلوگرام سے زیادہ ہوتا ہے جس سے آرام میں کمی آتی ہے اور وہ 10 سے کم ڈی ایف اوزپیش کرتے ہیں۔
یہ محدودیت ان کے پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً آدھے صارفین اپنے مصنوعی ہاتھوں کو ترک کر دیتے ہیں۔
Trending
- فیفا ورلڈ کپ سے گھر تک: ایرلنگ ہالینڈ کے ہاتھوں میں تھامے ’ریکون‘ کی کہانی سامنے آ گئی
- بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستانی مواد کو نیٹ فلکس پر رسائی ملے، فیصل قریشی
- عالمی شہرت یافتہ گلوکار طفیل خان سنجرانی دل کے عارضے کی وجہ سے ہسپتال داخل
- شہباز شریف کی مینگو ڈپلومیسی کام کرنے لگی، ہنگری کے وزیراعظم نے تصویر شیئر کردی
- ماجد ستی قتل کیس: ملزم فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا
- پاکستان میں خواتین ہاکی کی بحالی کیلئے نئی امید
- مفتاح اسماعیل کراچی کی فکر چھوڑیں، پہلے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں، ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید
- ایران نے دو آئل ٹینکروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی
- پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر گئی
- جینیفر گارنر نے انکشاف کیا کہ وہ اب کام کرنے والی ماں کے طور پر مجرم کیوں محسوس نہیں کرتی ہیں۔
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔