by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پاکستان میں خواتین ہاکی کی بحالی کیلئے نئی امید

— فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

پاکستان میں خواتین ہاکی کی بحالی کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی حالیہ کوششوں نے نئی امید پیدا کر دی ہے۔

چند ہفتوں کے دوران ناصرف ملک بھر سے سیکڑوں کھلاڑیوں کو قومی سطح پر کھیلنے کا موقع ملا بلکہ منتخب ٹیم نے بین الاقوامی ایونٹ میں بھی شرکت کی۔

اس سلسلے کا آغاز اسلام آباد میں 2 سے 10 جولائی تک منعقد ہونے والی نیشنل انڈر 21 گرلز ہاکی چیمپئن شپ سے ہوا۔ 

ابتداء میں صرف 5 سے 6 ٹیموں کی شرکت متوقع تھی، تاہم ملک بھر سے غیر معمولی دلچسپی کے باعث 16 ٹیموں اور 300 سے زائد کھلاڑیوں نے ایونٹ میں حصہ لیا۔

اس ٹورنامنٹ میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بلوچستان سمیت مختلف علاقوں اور مقامی ہاکی اکیڈمیوں کی کھلاڑیوں کو بھی اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

چیمپئن شپ کے دوران پاکستان کو عمان میں ہونے والی اے ایچ ایف انڈر 18 اور انڈر 21 فائیو اے سائیڈ ویمنز ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کی دعوت بھی موصول ہوئی، تاہم قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد ایک بڑا چیلنج سامنے آیا ہے۔

پی ایچ ایف کے مطابق منتخب ہونے والی تقریباً 70 فیصد کھلاڑیوں کے پاس پاسپورٹ، ب فارم یا دیگر ضروری شناختی دستاویزات موجود نہیں تھیں اور اس وجہ سے ان کی بر وقت روانگی ایک بڑا امتحان بن گئی۔

فیڈریشن نے ہنگامی بنیادوں پر نادرا، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا۔

ایک کھلاڑی کی دستاویزات مکمل کرنے کے لیے اس کی والدہ کی بائیو میٹرک تصدیق بھی ہنگامی بنیادوں پر کروائی گئی۔

پی ایچ ایف کے مطابق صرف 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر پاسپورٹس، ویزے، فضائی ٹکٹ، سفری انتظامات اور الاؤنسز مکمل کیے گئے، جس کے بعد قومی ٹیم بر وقت عمان روانہ ہو گئی۔

پاکستانی ٹیم نے عمان پہنچ کر اپنے پہلے ہی میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں ہانگ کانگ چائنہ کے خلاف قومی ٹیم کی کپتان شارقہ کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

پی ایچ ایف کے صدر محی الدین وانی کا کہنا ہے کہ خواتین ہاکی کی ترقی فیڈریشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ 

فیڈریشن کے مطابق آئندہ سال خواتین کھلاڑیوں کی تعداد 300 سے بڑھا کر 500 تک لے جانے، انڈر 15 گرلز ہاکی چیمپئن شپ شروع کرنے، ریجنل مقابلوں کے انعقاد اور غیر ملکی ماہر کوچز کی نگرانی میں ہائی پرفارمنس پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

کئی برسوں سے محدود سرگرمیوں کا شکار رہنے والی خواتین ہاکی میں حالیہ اقدامات کو ایک نئی شروعات قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کی باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔



PNP

Comments are closed.