نیویارک: امریکہ میں چین کے سفیر شے فنگ نے نیو یارک میں چائنا جنرل چیمبر آف کامرس کے قیام کی 20 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے فنٹنائل کے مسئلے کے بہانےچینی مصنوعات پر درآمدی ٹیرف عائد کرنا محض اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا اور چین-امریکہ انسداد منشیات اور اقتصادی و تجارتی تعاون کی بنیاد کو کمزور کرے گا۔ ٹیرف اور تجارتی جنگ نہ مسئلے کو حل کر سکتی ہے اور نہ ہی چین کی ترقی کو روک سکےگی۔
شے فنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے بجائے ایک دوسرے کو کامیاب بناتے ہوئےمل کر مشترکہ خوشحالی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہار جیت کی ذہنیت سے ہمیشہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ جیت جیت تعاون کے باعث ہر جگہ تعاون اور نئے مواقع مل سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال چین میں منعقدہ امپورٹ ایکسپو میں شریک امریکی کمپنیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور سپلائی چین ایکسپو میں شرکت کرنے والی امریکی کمپنیوں کی تعداد تمام غیر ملکی نمائش کنندگان میں سرفہرست رہی۔ چین میں امریکن چیمبر آف کامرس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، تقریباً نصف امریکی کمپنیاں چین کو دنیا میں سرمایہ کاری کے سرفہرست تین مقامات میں سے ایک قرار دیتی ہیں۔ شے فنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون مستحکم، صحت مند اور پائیدار چین-امریکہ تعلقات سے الگ نہیں ہو سکتا۔ امید ہے کہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقے چین امریکہ تعلقات کی حمایت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔
Trending
- راولپنڈی، 12 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
- پاکستان، سری لنکا کے درمیان تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا
- سیف علی خان کی انسٹاگرام پر باضابطہ انٹری، پہلی پوسٹ میں کیا شیئر کیا؟
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔