مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کے اعلان کی شدید مذمت کی جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے اور دریائے اردن کےمغربی کنارے پر 13 نئی بستیوں کی منظوری دی گئی۔
مصر نے اس بات پر زور دیا کہ بمباری، جنگ، انسانی امداد کی مخالفت اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کے تحت ہونے والا انخلاء، جبری بے گھر ہونے کے مترادف ہے جو ایک جرم ہے اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسی دن، سعودی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کے مذکورہ اقدامات کی مذمت کی۔ سعودی عرب نےاسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ اگر فلسطینی عوام کو بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے تحت ان کے جائز حقوق نہیں ملتے اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی تو پائیدار اور منصفانہ امن کا حصول ناممکن ہے۔
اسرائیلی سلامتی کابینہ نے 22 تاریخ کی شام کو وزیر دفاع یوآو کاٹز کے مشورے کو منظوری دی جس کے تحت وزارت دفاع کے اندر ایک نیا انتظامی ادارہ قائم کیا جائے گا جس کا کام نام نہاد "غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو نکالنے میں مدد کرنا” ہوگا۔ فلسطینی وزارت خارجہ اور حماس نے اسی دن بیان جاری کرتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
Trending
- سرگودھا: نہروں، دریاؤں میں نہانے پر پابندی کی خلاف ورزی، 59 افراد گرفتار
- کرن جوہر نے شاہ رخ خان سمیت کئی اہم شخصیات کو ’ان فالو‘ کیوں کیا؟
- جان ٹراولٹا نے بیٹی ایلا کو ‘پروپیلر ون وے نائٹ کوچ’ میں متعارف کرایا
- سرگودھا: گھریلو ناچاقی سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی، والد کا سسرالیوں پر تشدد کا الزام
- ایشیاء انڈر 18 ہاکی کپ، پاکستان نے پہلے میچ میں چین کو ہرا دیا
- شوبز ستاروں کی عید کے لمحات کی دلکش تصاویر
- امریکا کا ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کرنے کا دعویٰ
- لاہور: عیدالاضحیٰ پر حکومتی احکامات کی خلاف ورزی، 189 افراد گرفتار
- حج کے مقدس سفر نے میری روح میں ایسی چنگاری روشن کر دی جو ہمیشہ جلتی رہے گی: وسیم اکرم
- رنویر سنگھ اور فرحان اختر کی لڑائی، سلمان خان صلح کروانے بیچ میں آگئے
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔