by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک ایسا مستقل فریم ورک بنا جو جنگوں، تنازعات، حتیٰ کہ کارگل اور پلوامہ جیسے واقعات کے باوجود بھی قائم رہا۔

0

اسلام آباد، جنوبی ایشیا کے دو جوہری ہمسایہ ممالک، پاکستان اور بھارت، ایک بار پھر پانی جیسے اہم اور حساس مسئلے پر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ اس بار معاملہ صرف اختلافات یا تحفظات تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک باقاعدہ سفارتی محاذ آرائی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور سفارتی ذرائع سے نوٹس دینے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پاکستان کا بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ
سندھ طاس

یہ پیشرفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات کھڑے کر رہی ہے کہ کیا پانی ایک نیا "اسٹریٹیجک ہتھیار” بننے جا رہا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ: ایک تاریخی تناظر

1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے مغربی تین دریاؤں—سندھ، جہلم، چناب—پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ مشرقی دریاؤں—راوی، بیاس، ستلج—کا اختیار بھارت کو دیا گیا۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک ایسا مستقل فریم ورک بنا جو جنگوں، تنازعات، حتیٰ کہ کارگل اور پلوامہ جیسے واقعات کے باوجود بھی قائم رہا۔
معاہدے کی معطلی: بھارتی اقدام کی نوعیت
بھارت کی جانب سے اچانک سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان ایک حیران کن اور خطرناک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے کچھ تکنیکی اعتراضات اور "عدم تعاون” کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے پر عمل درآمد روکنے کی بات کی ہے۔ تاہم پاکستان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنوبی ایشیائی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بھارت نے حالیہ برسوں میں کئی ایسے منصوبے شروع کیے جو مغربی دریاؤں کے بہاؤ پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ان میں کشن گنگا اور راتلے ڈیم جیسے منصوبے شامل ہیں جن پر پاکستان نے متعدد بار اعتراضات اٹھائے، لیکن کوئی ٹھوس ردعمل نہیں ملا۔

پاکستان کا ردعمل:

انڈس واٹر کمیشن کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی ہے۔ اب بھارت کو ایک باقاعدہ سفارتی نوٹس بھیجا جائے گا جس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ پاکستان عالمی فورمز، جیسے کہ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور ورلڈ بینک میں بھی اس مسئلے کو اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے گا تاکہ پاکستان کے موقف کو قانونی اور اخلاقی جواز حاصل ہو۔

عالمی ردعمل

عالمی برادری کی نظریں اس تنازعے پر مرکوز ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ خطے میں پانی کے بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں، برفانی تودوں کے پگھلنے اور مون سون میں بے ترتیبی جیسے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں پانی جیسے بنیادی وسیلے پر تنازعہ خطے کو بدامنی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان کا قانونی موقف

پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک دو طرفہ معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق کسی بھی فریق کو اگر دوسرے فریق کے رویے پر اعتراض ہو تو اسے دو طرفہ مذاکرات یا ثالثی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس نے کبھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی، اور وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
سیاسی و عوامی ردعمل

پاکستان کے سیاسی حلقوں میں بھی اس مسئلے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات اٹھائے۔

عوامی سطح پر بھی سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر بھارت کے اس اقدام کے خلاف شدید ردعمل دیکھا گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے پانی کے بہاؤ کو روکا تو یہ پاکستان کے لیے خوراک، زراعت اور توانائی کے شعبے میں ایک شدید بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمتِ عملی: مذاکرات یا مقابلہ؟

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اولین ترجیح اب بھی مذاکرات اور سفارتی حل ہے۔ تاہم اگر بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو پاکستان کو عالمی عدالت میں قانونی چارہ جوئی، عالمی میڈیا مہم، اور دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنے جیسے آپشنز استعمال کرنا ہوں گے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت پانی کو بطور دباؤ کے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جسے "واٹر وار فیئر” کہا جا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو بھی اپنی آبی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔

نتیجہ: امن یا انتشار؟

سندھ طاس معاہدہ 60 سال سے زائد عرصے تک امن کی ایک علامت رہا ہے۔ اگر اس معاہدے کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

پاکستان نے سفارتی، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر جو راستہ اپنایا ہے، وہ ایک پرامن اور ذمے دار ریاست کا مظہر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری کس حد تک پاکستان کے موقف کو تسلیم کرتی ہے اور بھارت پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ اپنی یکطرفہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔

کیا سندھ طاس معاہدہ بچ سکے گا؟

یہ سوال اب ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ اگر بھارت نے یہ اقدام واپس نہ لیا تو مستقبل میں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں، بلکہ ایک جیو پولیٹیکل ہتھیار بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اب یہ ایک سفارتی جنگ ہے، جسے اُسے دانائی، حکمت اور استقلال سے جیتنا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.