امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان، جنوبی کوریا اور جنوبی افریقہ سمیت 14 ممالک کو خطوط ارسال کیے، جس میں ان پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں “مساوی ٹیرف” کی معطلی کی مدت یکم اگست تک بڑھا دی گئی۔
امریکہ نے گزشتہ تین ماہ میں متعدد تجارتی شراکت داروں کے ساتھ نام نہاد “مساوی ٹیرف” کے نفاذ پر بات چیت کی ہے، لیکن اس حوالے سے پیش رفت امریکہ کی توقع سے کافی کم ہے۔ تاحال صرف برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے ہوئے ہیں تاہم معاہدے کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور دیگر کے ساتھ مذاکرات سست روی کا شکار ہیں۔ امریکی محکمہ تجارت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ سال ان میں سے سات ممالک سے کل 351 بلین ڈالر کی اشیاء درآمد کیں جنہیں ٹرمپ نے خطوط ارسال کیے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا نے، امریکہ کے چھٹے اور ساتویں بڑے تجارتی شراکت داروں کے طور پر، گزشتہ سال امریکہ کو مجموعی طور پر 280 بلین ڈالر مالیت کا سامان برآمد کیا۔ امریکی میڈیا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اشیاء پر محصولات میں اضافے سے امریکی صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑیں گی۔ ٹیرف کے باعث امریکہ اور دیگر ممالک میں کساد بازاری کا زیادہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔