فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سینئر رکن خلیل حیا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 22 ماہ سے حماس نے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ہمیشہ فلسطینی عوام کے مفادات اور جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے اور ہر مرحلے پر متعلقہ ثالثوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا فعال جواب دیا ہے۔ تاہم، اسرائیل تاخیر ی حربے استعمال کر رہا ہے اور غزہ کے لوگوں کے خلاف نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ خلیل حیا کا کہنا تھا کہ اسرائیل مذاکرات کے حالیہ دور کے نتائج سے انکار کرتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے ایسے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کرپاتے۔ اس حوالے سے حماس کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی، نسل کشی اور بھوک کی پالیسی کے تحت مذاکرات جاری رکھنے کے کوئی معنی نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی کے میڈیا آفس نے بھی اسی روز ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کی منظم بھوک پالیسی اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کے جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے سرحدی گزرگاہوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
ادھر یمن کی حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریا نے 27 جولائی کی شام کو جاری ایک بیان میں کہا کہ حوثی اپنی بحری ناکہ بندی میں اضافہ کریں گے اور تمام شپنگ کمپنیوں کے تمام جہازوں پر حملے کریں گے جو اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، چاہے جہاز کا مقام اور قومیت کچھ بھی ہو۔
Trending
- بحری ناکہ بندی غیرقانونی، اشتعال انگیز غلطی ہے،ایرانی سفیر
- سوئیڈش ٹینس لیجنڈ بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
- کاروباری شخصیات کیلیے الگ پاسپورٹ سے متعلق بڑی خوشخبری
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو خوشخبری سنادی
- بھارتی کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
- پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
- مریم نواز کا کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
- پاکستان میں ہمیشہ معیاری فاسٹ بولرز پیدا ہوئے: کورٹنی والش
- عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔