امریکی میڈیا نے اطلاع دی کہ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کی جانے والی ٹیرف پالیسی کے منفی اثرات بتدریج واضح ہو رہے ہیں اور امریکی معیشت کمزوری کی جانب جا رہی ہے۔لیبر مارکیٹ میں مواقع کی کمی اور کمزور صارفی طلب جیسے مسائل اجاگر ہو رہے ہیں جس سے امریکی اقتصادی امکانات پر سایہ پڑ رہا ہے۔
یاہو فنانس نے یکم اگست کو امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ معاشی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح ماہ بہ ماہ 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4.2 فیصد ہوگئی اور اس ماہ غیر زرعی شعبے میں 73 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا جو مارکیٹ کی توقعات سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ٹیرف پالیسی کے منفی اثرات میں تیزی آ رہی ہے۔ ای وائی بوزیلونگ کے چیف اکانومسٹ گریگ ڈارکو نے کہا کہ امریکی حکومت کی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال اور محصولات کی وجہ سے افراط زر کے دباؤ میں اضافے کا معاشی سرگرمیوں پر زیادہ واضح اثر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکی کمپنیوں پر امریکی ٹیرف پالیسیوں کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ ورل پول اور پراکٹر اینڈ گیمبل جیسی کمپنیاں براہ راست ٹیرف سے متاثر ہوئی ہیں ۔ایپل کے سی ای او ٹم کک نے خبردار کیا ہے کہ اس سہ ماہی میں ٹیرف کی وجہ سے ایپل کو 1.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔مختلف معاشی اشاریوں کے پیش نظر یہ واضح ہے کہ امریکی معیشت کو سال کی دوسری ششماہی کے آغاز میں سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Trending
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست
- کراچی:حب ریور روڈ پر مزدا کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار جاں بحق
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔