اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے 5 اگست کوسوشل میڈیا پر کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے اسی دن محدود دائرے میں سکیورٹی اجلاس منعقد کیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنجمن نیتن یاہو غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے کی طرف “شدید مائل” ہیں۔ مصر اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری نے اس کی مذمت کی ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے فی الحال اسرائیلی فوج کے “غزہ پر مکمل قبضہ” کے منصوبے پر کوئی واضح بیان دینے سے انکار کر دیا ہے۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے ۔
ادھر 5 تاریخ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین اسرائیل مسئلے پر ہونے والے کھلے اجلاس میں اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل میلوسلاو یانچا نے کہا کہ انہیں ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں میں توسیع کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے 6 تاریخ کو خبر دی کہ اگرچہ بین الاقوامی برادری غزہ کی پٹی کے محصور علاقوں میں قحط اور تشویشناک انسانی صورت حال کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی پر دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ نیتن یاہو طویل مدتی قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں یا قلیل مدتی فوجی آپریشن کا، جس کا مقصد حماس کو تباہ کرنا اور یرغمالیوں کو رہا کرنا ہے۔
Trending
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
- جنگ کے سائے میں بھی ایرانی ریال کی فروخت جاری نئے ریٹ سامنے آگئے
- پنجاب میں ایچیسن کے معیار کے بوائز اینڈ گرلز اسکول قائم کرنے کا فیصلہ
- عامر خان کی تیسری شادی پر شیکھر سمن نے کیا کہا؟ تبصرہ وائرل
- انیا ٹیلر-جوائے نے تیموتھی چالمیٹ کی ‘ڈیون’ کی تعریف پر زندہ دل جواب شیئر کیا۔
- ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرین کی تعداد 102 ہوگئی، صوبائی وزیر کا کارروائی کا اعلان
- توہینِ مذہب اور پیکا ایکٹ کیس؛ ریحان طارق کے حق میں علماء کے فتوے پیش کردیئے گئے
- مائیکل جیکسن کی بایوپک نے عالمی باکس آفس پر ایک ارب ڈالرز کا ہندسہ عبور کرلیا
- ‘اسٹار وار: دی مینڈلورین اینڈ گروگو’ کو خصوصی بونس مواد کے ساتھ ہوم ریلیز کی تاریخ ملتی ہے۔
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔