اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ "حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ "حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست
- کراچی:حب ریور روڈ پر مزدا کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار جاں بحق
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔