اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دو بظاہر متضاد فیصلے کیے: ایک طرف، انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور حماس کو شکست دینے کے آپریشنل پلان کو منظور کر لیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ “حماس کے ساتھ مذاکرات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے”۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی عوام نے اسی دن تل ابیب میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی یرغمالیوں کے ایک خاندان کے رکن یہودا کوہن نے اس موقع پر کہا کہ نیتن یاہو پر جنگ ختم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور یہ کہ “حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے” جیسے کسی مطالبے کی بات کرنا سراسر ناممکن ہے۔ ایک حقیقی معاہدے میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، اور تمام یرغمالیوں کو گھر واپس بھیجنا شامل ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل تل ابیب کے ایک رہائشی نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کا واحد راستہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ ایک معاہدے تک پہنچے، کیونکہ حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم ان کی مطالبات سے واقف ہیں۔اس وقت ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے تاکہ تمام یرغمالیوں کو فوراً گھر واپس لایا جا سکے۔
Trending
- دپیکا پڈوکون کے ماضی سے متلعق بڑا انکشاف؟ مزمل ابراہیم کے بیان نے ہلچل مچا دی
- سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پھر اضافہ
- بحرین میں ایران کے لیے جاسوسی، 3 افراد کو عمر قید
- محکمہ موسمیات کا مون سون 2026 آؤٹ لک جاری، گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
- جنگ کے سائے میں بھی ایرانی ریال کی فروخت جاری نئے ریٹ سامنے آگئے
- پنجاب میں ایچیسن کے معیار کے بوائز اینڈ گرلز اسکول قائم کرنے کا فیصلہ
- عامر خان کی تیسری شادی پر شیکھر سمن نے کیا کہا؟ تبصرہ وائرل
- انیا ٹیلر-جوائے نے تیموتھی چالمیٹ کی ‘ڈیون’ کی تعریف پر زندہ دل جواب شیئر کیا۔
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔