اعتصام الحق
شہری انتظامی امور کے لیے بنائے جانے والے روبوٹس کا شعبہ تیزی سے دنیا بھر میں پھیلتا جا رہا ہے ۔یہ روبوٹس سڑکوں کی صفائی، کچرا اٹھانے، پارک اور گلیوں کی نگرانی، پارکنگ کنٹرول، اور کمیونٹی کی مدد جیسی روزمرہ سرکاری خدمات انجام دیتے ہیں ۔عالمی سطح پر پیشہ ورانہ سروس روبوٹس کی فروخت میں 2024 میں قابلِ ذکر اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی سروس روبوٹکس مارکیٹ ایک مضبوط سالانہ ترقی کی راہ پر نظر آئی ، جس کے نتیجے میں زمین پر چلنے والے روبوٹس، ڈرونز اور خود کار گاڑیاں میونسپل آپریشنز میں آہستہ آہستہ عام ہوتی جا رہی ہیں۔ عملی طور پر یہ روبوٹس خود کار نیویگیشن، نقشہ سازی اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے رکاوٹیں پہچان کر راستہ بناتے ہیں، اور بہت سی کمپنیاں انہیں روبوٹ از اے سروس یعنی RaaS ماڈل پر مہیا کر رہی ہیں تاکہ شہروں کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری کم ہو اور پائلٹ پراجیکٹس آسانی سے چل سکیں۔اب تک کے فیلڈ ٹرائلز میں دیکھا گیا ہے کہ سادہ صفائی اور کچرا اٹھانے والے روبوٹس روزانہ کے معمولی کاموں میں انسانوں کی محنت کم کر کے منافع اور رفتار دونوں بڑھا سکتے ہیں، البتہ موسمی حالات، سڑکوں کا مختلف معیار اور مینٹیننس کی قلت بعض جگہوں پر کارکردگی محدود کر دیتی ہے۔ قیمتوں کے معاملے میں روبوٹس کی رینج بہت وسیع ہے۔ کچھ بنیادی انٹرنیٹ معلومات کے مطابق بنیادی اور چھوٹے ماڈلز کی لاگت عام طور پر چند ہزار ڈالر سے شروع ہو کر سڑک کی صفائی کے پیشہ ورانہ خودکار یونٹس کی قیمتیں بیس سے تیس ہزار ڈالر کے درمیان ہیں جبکہ پیچیدہ، سینسرز سے بھرپور یا ہیومنائڈ طرز کے روبوٹس کی قیمتیں چند لاکھ ڈالر تک یا اس سے بھی زیادہ ہیں ۔ مجموعی طور پر 2025 کے حساب سے عام قیمت بیس ہزار ڈالر سے لے کر لاکھوں ڈالر تک پائی جاتی ہیں، اور اس میں انسٹالیشن، انٹیگریشن اور بعد از فروخت سروس کے اخراجات شامل کرنے سے حقیقی مجموعی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔
صنعت کے منظرنامے میں چین، یورپ اور شمالی امریکہ ان روبوٹس کے بڑے مینیوفیکچررز ہیں ۔ حال ہی میں چینی روبوٹس نے شینزین سٹی کی کمیونٹی سروس روبوٹ نمائش میں اپنی جدید صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام "انٹیلیجنٹ شیئرنگ فار دی فیوچر-نینی روبوٹ کانفرنس” کے ایک حصے کے طور پر اس تقریب میں مسابقتی مظاہرے اور نئی ٹیکنالوجیز اور کامیابیوں کی نمائش کی گئی ۔ کچھ روبوٹس نے ڈھلوانوں پر چڑھنے کا مظاہرہ کیا ، جبکہ دیگر بکھرے ہوئے پتوں اور ملبے کو درست طریقے سے جمع کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اسی طرح کے روبوٹ مقابلے مشرقی چین کے شہر چنگداؤ اور سوزو کے برانچ مقامات پر ہوں گے تاکہ روبوٹکس کے شعبے میں اختراعی کامیابیوں اور ایپلی کیشن کے منظرناموں کو پوری طرح سے دکھایا جا سکے ۔اس کانفرنس نے اسٹوڈیو ، کمیونٹی اور انٹرپرائز کو آپس میں جوڑا جس سے حاضرین کواے آئی کی حامل صفائی ستھرائی کی ٹیکنالوجی کی کامیابیوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے ، اور ان کے استعمال کے فروغ کا موقع ملا ۔تازہ ترین تخمینوں کے مطابق چین کی اس شعبے میں خدمات کی صلاحیت تقریبا 14.1 بلین یو ایس ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ۔ مگر چینی حکومت نے مارکیٹ میں یکسانیت اور معیار کے حوالہ سے محتاط اقدامات بھی اٹھائے ہیں تاکہ اوور سپلائی سے بچا جا سکے۔ اس طرح تیزی کے ساتھ ساتھ معیاری جدت اور قواعد و ضوابط کی ضرورت نمایاں ہو گئی ہے۔
اگر آپ کا شہر یا محلہ روبوٹس صفائی اور دیگر خدمات کے حامل ان روبوٹس کو اپنانا چاہتا ہے تو کم قیمت پائلٹس یا RaaS ماڈلز سے شروعات کر کے صفائی، کچرا اٹھانے اور معلوماتی خدمات جیسے کم پیچیدہ کاموں میں فوری فائدہ مل سکتا ہے، مگر مکمل حل لینے سے پہلے طویل مدتی مینٹیننس، ڈیٹا پرائیویسی، مقامی قوانین اور حقیقی دنیا میں روبوٹ کی کارکردگی کے ریکارڈ کو غور سے جانچنا ضروری ہے، کیونکہ قیمتیں، کارکردگی اور رسک تینوں عوامل مل کر ہی حتمی کامیابی کا فیصلہ کریں گے۔