بیجنگ :متعدد ممالک کی شخصیات کا ماننا ہے کہ عالمی برادری کو جاپان میں عسکری توسیع پسندی کی بحالی کے رجحان پر انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جاپان امن پسندی سے انحراف کر رہا ہے، عسکریت پسندی ابھررہی ہے اور جاپان کے فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ طرز عمل جاپان کے اپنے مفاد میں نہیں ہے۔ عسکریت پسندی خطرناک ہے اور آج کی دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیئے۔ بلغراد یونیورسٹی کے سکول آف اکنامکس کے پروفیسر ویلکو میوشکووچ کا خیال ہے کہ جاپان کے بیانات سے کشیدگی بڑھے گی اور عالمی معیشت نیز خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ نائجیریا میں سینٹر فار چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر چارلس اوونائیجو نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے ۔لہذا، آبنائے تائیوان کی صورت حال کا جاپان کے لئے خطرہ بننے کا کوئی بھی بیانیہ، چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کو انتہائی چوکس رہتے ہوئے جاپان کو اپنی غلطیوں کو دہرانے اور بین الاقوامی نظام کو سنگین طور پر نقصان پہنچانے کے پرانے راستے پر چلنے سے روکنا چاہیے۔
Trending
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
- آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے: بیرسٹر گوہر
- سینیگا فٹبال کا اسپورٹس میڈیسن ڈاکٹر کی بجائے ماہر امراض نسواں دیے جانے کا الزام
- ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی فیملی میں نئے مہمان کی آمد؟ مداح خوشی سے نہال
- دکانداروں کےخلاف کارروائیاں، تاجروں کا ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کل بند رکھنےکا اعلان
- آبنائے ہرمز میں دو بحری جہاز ٹکراگئے۔ایران نے 23 غیرملکی اہلکاروں کو بچا لیا
- ماجد ستی قتل کیس، عدالت نے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنا دی
- فیفا کا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل کی پچ کے ٹکڑے فروخت کرنے کا فیصلہ، لاکھوں ڈالرز آمدن کی توقع
- جوا ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں ٹک ٹاکر اقرا کنول اور اریب کی عبوری ضمانت کنفرم