دبئی:دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں اتوار کو ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن 4 کا شاندار فائنل ہونے جا رہا ہے، جہاں ڈیزرٹ وائپرز اور ایم آئی ایمیریٹس کے درمیان ٹائٹل کے لیے بھرپور مقابلہ ہوگا۔فائنل سے قبل پریس کانفرنس میں ڈیزرٹ وائپرز کے کپتان سیم کرن نے کہا کہ اہم لمحات کے لیے تیار رہنا اور ٹیم کے طور پر صحیح فیصلے کرنا سب سے اہم ہے۔ انفرادی کارکردگی اتنی اہم نہیں جتنی ٹیم کی جیت۔ فائنلز ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں دباؤ، شائقین، موقع اور ہم اس کے لیے تیار ہیں اور چیلنج کا انتظار کر رہے ہیں۔دوسری طرف ایم آئی ایمیریٹس کے کپتان کیرون پولارڈ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ فائنل کیا مانگتا ہے کیونکہ ہم پہلے بھی یہاں پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں یہ علم ہے کہ دباؤ کے تحت پرفارم کرنا کتنا ضروری ہے۔ کرکٹ سادہ ہے کبھی جیتیں، کبھی مخالف بہتر ہوتا ہے لیکن ہم نے ایک اور موقع کمائی ہے، اور یہی سب سے اہم بات ہے۔ فائنلز میں تحمل بہت ضروری ہے، اور اگر ہم اپنی منصوبہ بندی کے مطابق کھیلیں تو جیت کے ہر موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20سیزن فور کے چیمپیئن کوسات لاکھ امریکی ڈالر اور ٹورنامنٹ ٹرافی ملے گی، جبکہ رنرز اپ کو تین لاکھ ڈالر ملیں گے۔ انفرادی کارکردگی کو بھی ٹورنامنٹ کی خصوصی بیلٹس کے ذریعے تسلیم کیا جائے گا،گرین بیلٹ (بہترین بیٹر)،وائٹ بیلٹ (بہترین باؤلر)،ریڈ بیلٹ (سب سے قیمتی کھلاڑی)،بلیو بیلٹ (بہترین یو اے ای کھلاڑی)ہر بیلٹ کے ساتھ 15ہزار امریکی ڈالر کا انعام بھی دیا جائے گا۔
Trending
- دکانداروں کےخلاف کارروائیاں، تاجروں کا ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کل بند رکھنےکا اعلان
- آبنائے ہرمز میں دو بحری جہاز ٹکراگئے۔ایران نے 23 غیرملکی اہلکاروں کو بچا لیا
- ماجد ستی قتل کیس، عدالت نے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنا دی
- فیفا کا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل کی پچ کے ٹکڑے فروخت کرنے کا فیصلہ، لاکھوں ڈالرز آمدن کی توقع
- جوا ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں ٹک ٹاکر اقرا کنول اور اریب کی عبوری ضمانت کنفرم
- سونے کی قیمت میں کمی
- عمان کے لیماہ علاقے کے قریب آئل ٹینکر میزائل کی زد میں آگیا
- کراچی: دورانِ ڈکیتی فائرنگ کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات ادا
- بیوی پر تشدد کا مقدمہ: یوٹیوبر علی حیدر آبادی کی ضمانت میں توسیع
- مک جیگر نے انکشاف کیا کہ وہ ایلوس پریسلے سے کیوں نہیں ملا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔