ایران جنگ میں نیا خطرہ، کندھے پر رکھ کر چلنے والے میزائل امریکی فضائی طاقت کیلئے نیا چیلنج قرار
نئی دہلی (پی این پی)ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا خطرہ سامنے آیا ہے،
بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کو 1000 سے زائد مین پیڈز (کندھے پر رکھ کر چلنے والے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل)مل سکتے ہیں جنہیں مبینہ طور پر چین کی جانب سے خفیہ راستوں سے فراہم کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پہلے ہی امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔3 اپریل کو ایک ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل اور اے-10 وارتھاگ مار گرائے گئے تھے جبکہ ایک جدید ایف-35 طیارے کو بھی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ ایران نے امریکی ایندھن بردار طیاروں اور ایک ارب ڈالرز مالیت کے ای-3 سینٹری ریڈار طیارے کو بھی نشانہ بنایا تھا۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مین پیڈز سادہ مگر موثر ہتھیار ہیں جو ایک فرد آسانی سے استعمال کر سکتا ہے، یہ حرارت کو نشانہ بنانے والے میزائل ہوتے ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں، ان کی رینج تقریبا 5 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال امریکا کو فضائی برتری حاصل ہے تاہم اگر زمینی جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ میزائل امریکی طیاروں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب طیارے نچلی پرواز کر کے زمینی فوج کی مدد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ دوسری جانب چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے تاہم امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ہتھیار کسی تیسرے ممالک کے ذریعے ایران پہنچائے جا سکتے ہیں ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرے جبکہ خبردار بھی کیا ہے کہ ایسا کرنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے چینی سیٹلائٹ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اگر ایران کو بڑی تعداد میں یہ میزائل مل جاتے ہیں تو خاص طور پر زمینی کارروائی کی صورت میں یہ جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
PNP
Comments are closed.