بھارتی سپریم کورٹ نے جسم فروشی کو قانونی قرار دے دیا
اسلام آباد (پی این پی)بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر دو بالغ افراد اپنی آزاد مرضی اور باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں تو اسے خود بخود غیر قانونی عمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں پولیس کو غیر ضروری مداخلت یا ہراسانی سے گریز کرنا چاہیے۔یہ ریمارکس انسانی اسمگلنگ اور جبری جنسی استحصال سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ رضاکارانہ طور پر جنسی کاروبار سے وابستہ بالغ افراد اور استحصال یا اسمگلنگ کا شکار افراد کے معاملات کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اگرچہ قحبہ خانے چلانا قانون کے تحت جرم ہے، تاہم صرف جنسی کاروبار سے وابستہ ہونے کی بنیاد پر بالغ افراد کے خلاف کارروائی کرنا یا چھاپوں کے دوران ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرنا درست نہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس کو ایسے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے اور رضامند افراد کو زبردستی “ریسکیو” کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ بحالی اور سماجی انضمام کے تمام اقدامات متاثرہ شخص کی رضامندی کے تابع ہونے چاہئیں۔ کسی بالغ فرد کو اس کی مرضی کے خلاف بحالی کے عمل میں شامل کرنا بنیادی حقوق کے منافی ہو سکتا ہے۔فیصلے میں عدالت نے “امورل ٹریفک پریوینشن ایکٹ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کئی مواقع پر جنسی کاروبار سے وابستہ تمام افراد کو یکساں طور پر دیکھتا ہے، حالانکہ بعض افراد استحصال کا شکار ہوتے ہیں جبکہ بعض اپنی مرضی سے اس شعبے میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔
عدالت کے مطابق ہر کیس کے حقائق اور حالات کو الگ انداز میں جانچنا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ بالغ افراد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے اور انہیں صرف اسی صورت میں معاونت یا بحالی کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے جب وہ خود اس کی خواہش ظاہر کریں۔ عدالت کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنا قابلِ ستائش ہے، لیکن اسے زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدالت انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق رہنما اصول مرتب کرنے پر غور کر رہی تھی۔ عدالت نے زور دیا کہ ہر معاملے کا فیصلہ اس کی مخصوص صورتحال اور متعلقہ فرد کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
PNP
Comments are closed.