by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال

—فائل فوٹو

وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات کو بحال کر دیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔

دفعات بحالی سے شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکومتی اختیار بحال کر دیا گیا، عدالت نے حکومت کا شہریوں کے پاسپورٹ غیر فعال قرار دینے کا اختیار بھی بحال کر دیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے حکومتی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی۔

دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کی کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیر قانونی طور پر ایران گیا جہاں سے ڈیپورٹ ہوا، غیر قانونی اقدامات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں اس کا نام شامل کیا گیا، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اور پاسپورٹ غیر فعال ہونا چیلنج کیا گیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ شہری خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسہ لے کر اٹلی بھیجتا تھا؟ ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے معلومات تاحال نہیں لیں، لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول 3 اور 10 کالعدم قرار دے دیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔



PNP

Comments are closed.