by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حملہ ہوا تو میدانِ جنگ اور ہتھیار دونوں مختلف ہوں گے، پاسدارانِ انقلاب

جارحیت کی صورت میں نئے محاذ کھلیں گے

0

تہران (ویب ڈیسک) 3 جون 2026

ایران نے امریکی مطالبۂ سرینڈر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولے جائیں گے اور دشمن کو مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اسے میدانِ جنگ میں مختلف نوعیت کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور عسکری حکمتِ عملی کی نوعیت بھی ماضی سے مختلف ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا ہے، جس کے باعث ملک کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی نے کہا کہ امریکا ایران سے مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم ایرانی قوم کبھی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔

 

جعفر اسدی کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر دکھائی دیتی ہے، تاہم ایران نے ابھی تک اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی ممکنہ تنازع میں نیٹو بھی شامل ہو جائے تو ایران کو اس سے کوئی تشویش نہیں ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.