by Rao Imran Suleman
Rao Nama

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تھائی لینڈ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ شاہی محل کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

شہزادی باجراکیتیابھا گزشتہ تقریباً چار برس سے شدید علالت کا شکار تھیں اور کومے میں زندگی گزار رہی تھیں۔ انہیں دسمبر 2022 میں ملک کے شمال مشرقی علاقے کے ایک سرکاری دورے کے دوران اچانک طبی پیچیدگی پیش آئی تھی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر بنکاک منتقل کیا گیا تھا جہاں مسلسل علاج جاری رہا۔

شاہی بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کی صحت مزید خراب ہوگئی تھی۔ مختلف طبی مسائل، جن میں شدید انفیکشن، نظامِ ہاضمہ کی پیچیدگیاں، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور خون جمنے سے متعلق مسائل شامل تھے، بالآخر ان کے انتقال کا سبب بنے۔

7 دسمبر 1978 کو پیدا ہونے والی شہزادی باجراکیتیابھا، تھائی بادشاہ کنگ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی صاحبزادی تھیں۔ انہیں عوامی خدمت، قانونی شعبے میں سرگرمیوں اور سماجی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل تھا۔

انہوں نے امریکا کی کارنیل یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں بطور قانونی ماہر خدمات انجام دیں۔ سفارتی میدان میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور آسٹریا، سلووینیا اور سلوواکیہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔

شہزادی خواتین قیدیوں اور جیلوں میں موجود ماؤں کے حقوق کے لیے بھی سرگرم رہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس نے سماجی سطح پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ اقوام متحدہ نے بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں قانون کی حکمرانی سے متعلق خیرسگالی سفیر مقرر کیا تھا۔

سن 2021 میں وہ فوجی خدمات سے بھی وابستہ ہوئیں اور رائل سیکیورٹی کمانڈ میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ تھائی آئین کے مطابق وہ شاہی جانشینی کے لیے اہل افراد میں شامل تھیں۔

شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی کی آخری رسومات سرکاری اور شاہی اعزازات کے ساتھ ادا کی جائیں گی، جبکہ ملک میں قومی سوگ کے اعلان کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.