by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بغیراجازت ذاتی واش روم کا استعمال؛ ایم پی اے کے بیٹے کوGet Lost ” کہنے پر ڈی پی او کا تبادلہ“

اسلام آباد (پی این پی) پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں ایک غیر معمولی واقعہ سیاسی اور انتظامی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا،

جہاں اطلاعات کے مطابق ایک تنازعے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کامران حامد کا تبادلہ کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی شاہد حسین بھٹی اپنے بیٹے حیدر بھٹی اور چند ساتھیوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ڈی پی او دفتر میں موجود نہیں تھے، جبکہ حیدر بھٹی مبینہ طور پر ان کے ذاتی کمرے میں گئے اور وہاں موجود واش روم استعمال کیا۔رپورٹس کے مطابق جب ڈی پی او کامران حامد دفتر واپس آئے تو انہیں اس صورتحال کا علم ہوا، جس پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور کشیدگی پیدا ہوگئی۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں یہ معاملہ سیاسی سطح تک پہنچ گیا اور بااثر حلقوں کی مداخلت کے بعد ڈی پی او کامران حامد کا تبادلہ کرکے انہیں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں تعینات کر دیا گیا۔

مزید اطلاعات کے مطابق تبادلے کے بعد حیدر بھٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی، جسے اس واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی دوران حافظ آباد کے سابق رکنِ اسمبلی مامون جعفر تارڑ کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں اس تنازعے اور تبادلے کے پس منظر پر گفتگو سنائی دیتی ہے۔تاہم اس معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں واقعے پر مختلف آراء کا اظہار جاری ہے۔



PNP

Comments are closed.