by Rao Imran Suleman
Rao Nama

موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلے کے لیے چین کے نئے این ڈی سیز

0

 

اعتصام الحق

 

چین نے سال 2025 میں اگلے دس سالوں کے اہداف پر مشتمل اپنے نئے این ڈی سیز متعین کیے اور انہیں اقوام متحدہ میں جمع کروایا ۔یہ این ڈی سیز کیاہیں اور کس طرح یہ چین اور دنیا کو فائدہ دیں گے ،یہ جاننے سے قبل یہ جانتے ہیں کہ این ڈی سیز ہوتے کیا ہیں ۔در اصل این ڈی سیز کسی ایک ادارے یا فرد کا موقف نہیں ہوتے بلکہ ہر ملک کی اپنی سرکاری قومی پوزیشن یا عہد ہوتے ہیں جو وہ اقوامِ متحدہ کے سامنے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں جمع کرواتا ہے۔یہ” نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشن ” کا مخفف ہے ۔ نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشن کا مطلب ہے "قومی طور پر خود طے کیا گیا کردار "۔یہ 2015 کے پیرس معاہدے کے تحت ایک نظام ہے جس میں ہر ملک خود طے کرتا ہے کہ وہ کتنی گرین ہاؤس گیس کم کرے گا، کس سال تک کرے گا اور کن شعبوں میں کرے گا ۔ مثلا توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت وغیرہ اور پھر یہ منصوبہ اقوام متحدہ کو باضابطہ طور پر جمع کروایا جاتا ہے۔لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ این ڈی سیز کسی عالمی ادارے کی ہدایت نہیں ہوتے ، کسی بیرونی دباؤ سے طے نہیں ہوتے ،بلکہ یہ ہر ملک کی اپنی سرکاری قومی پالیسی اور بین الاقوامی وعدہ ہوتے ہیں ۔

سال ۲۰۲۵ میں چین نے پیرس معاہدے کے تحت اپنے تجدید شدہ این ڈی سیز کو باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کو جمع کروایا اور عالمی سطح پر اس کا اعلان کیا۔ یہ چین کی طرف سے پہلی بار اقتصادی سطح پر “مکمل گرین ہاؤس گیس میں کمی” کا نیا ٹارگٹ ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جدوجہد میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
🌍 چین نے اپنے نئے این ڈی سیز کے تحت 2035 تک جو بڑے اہداف طے کیے ہیں وہ یہ ہیں ۔
گرین ہاؤس گیسوں میں قطعی کمی۔چین نے اپنا ہدف رکھا ہے کہ اقتصادی سطح پر مجموعی گرین ہاؤس گیس CO₂، CH₄، N₂O سمیت تمام گیسوں کے اخراجات کو 2035 تک اپنے پیک سطح سے 7 سے 10 فیصد تک کم کرے گا، اور زیادہ بہتر نتائج کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ یہ پہلی بار ہے کہ چین نے مکمل اقتصادی شعبوں میں GHG اخراجات میں قطعی کمی کا وعدہ کیا ہے، جسے ماحولیاتی ذمہ داری میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ چین نے ہدف مقرر کیا ہے کہ کل توانائی کی کھپت میں غیر فوسل ایندھن (مثلاً ہوا، شمسی، ہائیڈرو، نیوکلیئر) کی حصہ داری 30 فیصد سے زائد ہو جائے۔ یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
چین کا منصوبہ ہے کہ ہوا اور شمسی توانائی کی مجموعی تنصیب 2035 تک تقریباً 3،600 گیگاواٹ تک پہنچ جائے جو 2020 کے مقابلے چھ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قدم عالمی سطح پر توانائی کے نظام میں تبدیلی اور کاربن اخراجات کم کرنے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔
ساتھ ہی چین نے اپنے پہلے سے قائم جنگلاتی ذخیرے کو بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ قدرتی کاربن سنکس مضبوط ہوں۔ یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی تنوع، اور کاربن جذب میں اضافے کے لیے مفید ہے۔ پھر الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں کی فروخت کے حوالے سے چین نے اعلان کیا ہے کہ 2035 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں “نیو انرجی گاڑیاں” (برقی، ہائبرڈ، ہائیڈروجن وغیرہ) اکثریت میں ہوں گی، جس سے تیل پر انحصار کم ہو گا اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اس سے GHG میں کمی ہو گی ۔
ایک اور انتہائی اہم قدم کاربن ٹریڈنگ ایمیشنز کو بڑھانا ہے ۔تاکہ زیادہ شعبے شامل ہوں اور خاص طور پر وہ شعبے جن میں اخراج زیادہ ہے۔ یہ اقدام کاربن پر قیمت لگانے کے طریق کار کو مضبوط کرے گا۔ اس کے علاوہ مویشیوں اور پولٹری کے فضلے کی ری سائکل کی شرح 85 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی ایک اہم ہدف ہے ۔
یہ اقدامت صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی نہیں بلکہ تمام کلیدی گیسوں میں کمی کے لیے ہیں تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی ماحول کو دیکھا جائے تو چین کے ملکی سطح پر ان اقدامات کے باوجود یہ ب ین الاقوامی صورتحال کے لیے کافی نہیں سمجھے جاتے کیوں کہ گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے اب بھی اس سے بڑے اقدامات فوری اختیار کرنا ضروری ہیں لیکن اس کے لیے صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.