چین کا تعلیمی نظام بدل گیا: ہزاروں پرانے ڈگری پروگرامز ختم
چین نے 2021 سے 2025 کے دوران اپنی یونیورسٹیوں کے انڈرگریجویٹ تعلیمی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں، جسے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا نصابی اصلاحاتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں 12 ہزار سے زائد پرانے ڈگری پروگرامز ختم کیے گئے، جبکہ تقریباً 10 ہزار 200 نئے پروگرامز متعارف کرائے گئے۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ملک کی 30 فیصد سے زیادہ جامعات کے نصاب میں نمایاں رد و بدل ہوا۔
حکام کے مطابق اس اصلاحات کے دو اہم مقاصد ہیں: ایک نوجوان گریجویٹس میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور دوسرا تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی۔
چین میں حالیہ برسوں کے دوران نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد تعلیمی نظام پر یہ سوال اٹھا کہ آیا موجودہ ڈگری پروگرامز مارکیٹ کی ضروریات پوری کر رہے ہیں یا نہیں۔
اصلاحات کے تحت آرٹس، غیر ملکی زبانوں، مینجمنٹ اور ہیومینٹیز جیسے شعبوں میں پروگرامز میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جبکہ اس کے برعکس ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مضامین کو زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے۔
نئے نصاب میں متعدد جامعات میں جدید اے آئی اور صنعتی ٹیکنالوجی سے متعلق کورسز شامل کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو عملی مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے اور انہیں مستقبل کی مارکیٹ کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔
یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین اپنی تعلیمی پالیسیوں کو اقتصادی ضروریات اور عالمی ٹیکنالوجی مقابلے کے مطابق ڈھالنے پر توجہ دے رہا ہے۔
PNP
Comments are closed.