قطر کے تحفے میں دیے گئے خصوصی طیارے کو امریکی صدارتی بیڑے میں شامل کر لیا گیا
واشنگٹن: امریکی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک نیا خصوصی مسافر طیارہ، جو قطری شاہی خاندان کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا، عارضی طور پر صدارتی فضائی بیڑے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ طیارہ اس وقت تک صدر کی سفری ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا جب تک بوئنگ کے نئے VC-25B طیارے مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتے، جن کی ترسیل میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے۔
فضائیہ کے مطابق طیارے میں جدید مواصلاتی نظام، سیکیورٹی اپ گریڈز اور آپریشنل سپورٹ کی سہولیات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسے صدارتی استعمال کے معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی سطح پر اس میں موجود ممکنہ خطرات کو دور کر دیا گیا ہے۔
طیارے کے اندرونی ڈیزائن میں بڑی تبدیلیاں نہیں کی گئیں، تاہم بیرونی حصے کو نئے رنگوں اور جدید طرز کی پینٹنگ سے مزین کیا گیا ہے، جس میں سرخ، سفید اور نیلے رنگوں کے ساتھ سنہری شیڈز بھی شامل ہیں۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب میں اس طیارے کو اعلیٰ معیار اور غیر معمولی لگژری کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں استعمال ہونے والے مواد، لکڑی کا کام اور انجن عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ انہوں نے قطر کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ طیارہ مئی 2025 میں بطور تحفہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس پر امریکی سیاست میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ بعض قانون سازوں نےغیر ملکی تحائف سےمتعلق مفادات کے ٹکراؤ اور آئینی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے تھے۔
قانونی ماہرین کے مطابق امریکی سرکاری اہلکاروں کے لیے محدود مالیت سے زیادہ تحائف قبول کرنے پر پابندی ہے، تاہم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ طیارے کی مستقبل کی ملکیت سے متعلق فیصلہ صدارتی لائبریری کے منصوبے کے تحت کیا جائے گا۔
دوسری جانب پرانے صدارتی طیاروں کے بیڑے میں شامل بوئنگ 747 ماڈلز کو مرحلہ وار ریٹائر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نئے انتظامات کو عارضی طور پر اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.