اسرائیل جنوبی لبنان اور شام میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنوبی لبنان اور شام کے بعض علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ جنوبی لبنان میں قائم سیکیورٹی زونز اسرائیل کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان علاقوں میں اسرائیلی فوج کو مختلف سیکیورٹی خطرات اور حملوں کا سامنا رہا، جس کے باعث اسرائیل اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض متاثرہ علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہے اور کئی مقامات رہائش کے لیے موزوں نہیں رہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل شام کے ان علاقوں سے بھی دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا جہاں اس کی فوج موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ملکی سلامتی سے متعلق پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
دوسری جانب لبنان اور شام میں اسرائیلی فوجی موجودگی اور کارروائیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے ہیں اور کئی افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
علاقائی صورتحال اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں لبنان کا معاملہ مختلف بین الاقوامی مذاکرات اور رابطوں میں بھی زیرِ بحث رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات جاری ہیں۔
PNP
Comments are closed.