by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آیوش ملک نے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے کا اعلان، مذہب تبدیلی کا مقدمہ بدستور زیرِ تفتیش

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے آیوش ملک ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اسلام قبول کرنے اور بعد ازاں شادی کرنے کے بعد اب انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر چکے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق آیوش ملک کی ملاقات 2018 میں علاج کے دوران فزیو تھراپسٹ چاندنی قریشی سے ہوئی تھی۔ بعد میں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور انہوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔

پولیس کے مطابق آیوش 2023 میں دہلی گئے، جہاں انہوں نے اسلام قبول کیا، اپنا نام محمد علی رکھا اور نکاح کیا۔ تاہم تفتیش کے دوران نکاح سے متعلق کوئی سرکاری دستاویز یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ سامنے نہ آنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش ملک مختلف مواقع پر یہ کہتے رہے کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے مذہب تبدیل کیا تھا اور شادی بھی اپنی مرضی سے کی تھی۔

دوسری جانب آیوش کے والد دیوراج ملک نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو منصوبہ بندی کے تحت مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا گیا تاکہ خاندان کی جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔ ان الزامات کی بنیاد پر اتر پردیش پولیس نے ریاست کے مذہب تبدیلی سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا، جس کے بعد چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی کو گرفتار کیا گیا۔ معاملے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں آیوش ملک ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کیا ہے اور اب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

آیوش کے والد نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے بیٹے نے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔

تاہم اس معاملے میں درج مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے۔ مذہب کی تبدیلی، مبینہ دباؤ یا سازش سے متعلق تمام الزامات پر ابھی عدالت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، اس لیے قانونی طور پر یہ تمام دعوے اور الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

PNP

Comments are closed.