کراچی(پی این پی)جون 2026ء میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز خسارے میں رہا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ جون میں تجارتی خسارہ مئی کے مقابلے 8 فیصد اضافے کے بعد 3 ارب 55 کروڑ ڈالرز رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں ملکی درآمدات مئی کے مقابلے 9 فیصد بڑھ کر 6 ارب 14 کروڑ ڈالرز رہیں، جبکہ برآمدات 10 فیصد اضافے کے بعد 2 ارب 38 کروڑ ڈالرز ریکارڈ کی گئیں۔
سٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ جون میں تجارت، خدمات اور آمدن کا مجموعی خسارہ 4 ارب 34 کروڑ ڈالرز رہا، جبکہ ورکرز ترسیلات مئی کے مقابلے 18 فیصد کم ہو کر 3 ارب 47 کروڑ ڈالرز رہ گئیں، مئی 2026ء میں ورکرز ترسیلات 4 ارب 37 کروڑ ڈالرز تھیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025ء کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025ء میں ملکی برآمدات 5 فیصد کمی کے بعد 30 ارب 84 کروڑ ڈالرز رہیں، جبکہ مالی سال 25-2024ء میں برآمدات 32 ارب 34 کروڑ ڈالرز تھیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26-2025ء میں درآمدات 9 فیصد اضافے کے ساتھ 64 ارب 46 کروڑ ڈالرز رہیں، جبکہ مالی سال 25-2024ء میں درآمدات 59 ارب 14 کروڑ ڈالرز تھیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025ء میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 14 فیصد اضافے کے بعد 43 ارب 95 کروڑ ڈالرز رہا، جبکہ اسی عرصے کے دوران ورکرز ترسیلات 9 فیصد اضافے سے 41 ارب 58 کروڑ ڈالرز ریکارڈ کی گئیں۔
PNP
Comments are closed.