by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بھارت میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ کا احتجاج، مودی حکومت پر تنقید

بھارت میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر مختلف شہروں میں طلبہ اور سماجی کارکنوں کے احتجاج کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امتحانی نظام، مبینہ پیپر لیک واقعات اور تعلیمی پالیسیوں پر حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جہاں پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ ان واقعات کی مختلف ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچوک کو احتجاج کے دوران حراست میں لے کر اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد مظاہروں میں مزید شدت آ گئی۔ احتجاج کرنے والے افراد نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں امتحانی نظام سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ پیپر لیک واقعات اور طلبہ کو درپیش مسائل نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے، جس کے باعث وہ تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق تعلیمی شعبے سے متعلق تنازعات اور طلبہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج نے حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات اور مطالبات پر مختلف مواقع پر اپنے مؤقف کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

 

PNP

Comments are closed.