by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایرانی ٹماٹر آنے کے بعد بھی قیمتیں کم نہ ہوسکیں، کراچی میں  500 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگے

کراچی(پی این پی) ایرانی ٹماٹروں کی ترسیل کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے اور شہر میں ٹماٹر کی قیمتیں مزید بڑھ کر 450 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرچون فروش بلوچستان کی فصل سے آنے والے ٹماٹروں کے بھی ایرانی ٹماٹروں کے برابر ہی دام وصول کر رہے ہیں۔

ویب سائٹ پاک رپورٹ کے مطابق اس وقت متعدد تاجر ایرانی اور کوئٹہ کے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو یا 110 سے 125 روپے فی پاؤ (250 گرام) کے حساب سے بیچ رہے ہیں، جبکہ کچھ تاجر چھوٹے سائز اور کچے ٹماٹر 400 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق اکثر دکاندار ایرانی ٹماٹربیچنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ یہ پاکستانی ٹماٹر کے مقابلے میں بہت جلد نرم پڑ جاتے ہیں اور خراب ہونے لگتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستانی اور ایرانی ٹماٹروں کے ذائقے میں بھی نمایاں فرق موجود ہے۔
انگریزی جریدے ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے اس طوفان کے باعث خریداروں نے بھی اپنی خریداری انتہائی محدود کر دی ہے اور تاجروں کے بقول عوام کو 50 سے 60 روپے میں بمشکل دو سے تین چھوٹے سائز کے ٹماٹر ہی مل پا رہے ہیں۔ قیمتوں میں اس تشویشناک اضافے کے رخ کو دیکھیں تو رواں ماہ کے آغاز میں ٹماٹر کی قیمت 300 روپے فی کلو سے زائد تھی، جبکہ جون کے تیسرے ہفتے میں یہ 120 سے 160 روپے فی کلو اور اپریل میں 80 سے 100 روپے فی کلو کے درمیان دستیاب تھے۔
ٹماٹر کے کاشتکار اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے سابق نائب صدر یونس سومرو کے مطابق ایران سے ٹماٹر انتہائی کم مقدار میں آ رہے ہیں اور روزانہ اوسطاً صرف 10 کنٹینرز ہی پہنچ پاتے ہیں۔ مزید برآں، جب یہ ایرانی ٹماٹر کراچی پہنچتے ہیں تو ان میں سے تقریباً 30 فیصد پھل پہلے ہی خراب ہو چکا ہوتا ہے، اور یہ ذائقے کے لحاظ سے بھی سندھ یا بلوچستان کے ٹماٹر کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس وقت ملک کی اتنی بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لیے صرف بلوچستان کی فصل ہی دستیاب ہے جو کہ ضرورت کے مقابلے میں ناافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ میں ٹماٹر کی کاشت کا عمل اب شروع ہو رہا ہے اور اس کی فصل ستمبر کے وسط تک بازار میں آ سکے گی۔ سندھ کی پچھلی فصل اپریل میں ختم ہو گئی تھی، جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی فصلیں بالعموم مئی اور جون میں آتی ہیں اور وہ انہی دونوں صوبوں کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے تک ہی محدود رہتی ہیں۔
 



PNP

Comments are closed.