سعودی عرب سےایٹمی معاہدے کیلئے ٹرمپ نےاسرائیل کو تسلیم کرنےکی شرط رکھ دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سویلین جوہری پروگرام کے قیام سے متعلق تاریخی معاہدے کی منظوری اس شرط سے مشروط ہوگی کہ ریاض ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ صرف سویلین مقاصد کے لیے جوہری تنصیبات کے استعمال سے متعلق ہے، جیسا کہ ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کی منظوری دی جائے گی، تاہم یہ مکمل طور پر اس بات سے مشروط ہے کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو۔
ابراہم معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائے تھے، جن کا مقصد اسرائیل اور ماضی میں اس کے مخالف رہنے والے ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانا تھا، تاہم خطے کے کئی ممالک میں یہ معاہدے عوامی سطح پر غیر مقبول رہے ہیں کیونکہ ان میں فلسطین۔اسرائیل تنازع کا حل شامل نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے اور امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے “پرامن جوہری تعاون” اور “دوطرفہ حفاظتی اقدامات” سے متعلق دو معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، تاہم معاہدوں کا متن فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
محکمہ توانائی نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے کئی دہائیوں پر محیط اربوں ڈالر کی شراکت داری کی قانونی بنیاد فراہم کریں گے، جس کا مقصد اقتصادی اور اسٹریٹجک اہداف کے ساتھ ساتھ جوہری عدم پھیلاؤ کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی ایک شق کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب قائم کر سکتی ہیں، تاہم امریکی محکمہ توانائی نے اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی۔
معاہدہ جائزے کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، تاہم ریپبلکن اکثریت کی موجودگی میں اس کی منظوری میں رکاوٹ کا امکان کم بتایا جا رہا ہے۔
ماضی میں امریکی قانون سازوں اور اسرائیلی حکام نے اس منصوبے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں سعودی عرب اس صلاحیت کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اسے بھی ایران کی طرح پرامن مقاصد کے لیے سویلین جوہری پروگرام کا حق حاصل ہے۔
امریکہ حالیہ برسوں میں جوہری معاہدے کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی اور امریکہ۔سعودی دفاعی معاہدے کے وسیع تر اسٹریٹجک فریم ورک سے منسلک کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہیں اور امریکی ٹیکنالوجی و ماہرین پر مبنی ہیں۔
یہ معاہدہ امریکی ایٹامک انرجی ایکٹ کے سیکشن 123 کے تحت طے پایا ہے، جبکہ امریکہ اس نوعیت کے جوہری تعاون کے معاہدے 50 سے زائد ممالک کے ساتھ کر چکا ہے۔
ماہرین نے معاہدے کو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیا، تاہم بعض نے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت دینے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اٹلانٹک کونسل کے میتھیو کرونگ نے کہا کہ سعودی عرب کو افزودگی کی صلاحیت دینا غلطی ہوگی، جبکہ جینیفر ٹی گورڈن نے اسے روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔
PNP
Comments are closed.