by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر بھوک ہڑتال ختم

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

59 سالہ وانگچک نے جمعرات کی شب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کے پیشِ نظر انہوں نے اپنا روزہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہڑتال ختم کرنے کی تمام شرائط ایک علیحدہ ویڈیو میں بیان کریں گے۔

وانگچک کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک ویڈیو پیغام میں امتحانی پرچوں کے افشا کو روکنے کے لیے مزید سخت قانون لانے کا اعلان کیا۔ مودی نے کہا کہ حکومت پرچہ لیک کرنے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی تیز کرنے کے اقدامات کر رہی ہے اور اس معاملے پر جمعہ کو کابینہ میں بھی غور کیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں مودی نے امتحانی پرچوں کے افشا کو لاکھوں طلبہ کے لیے “انتہائی تکلیف دہ” قرار دیا، تاہم انہوں نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا نام نہیں لیا۔

وانگچک 28 جون سے نوجوانوں کی قیادت میں قائم “کاکروچ جنتا پارٹی” کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر بھوک ہڑتال پر تھے۔ یہ جماعت میڈیکل کالج کے داخلہ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس اسکینڈل کے باعث لاکھوں امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔

وانگچک کے اعلان کے فوراً بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ان کے بیان کو سوشل میڈیا پر نمایاں طور پر شیئر کیا۔

PNP

Comments are closed.