امریکا نے پاکستان سمیت60 ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کردیئے۔اس بار چائلڈ لیبر کا بہانہ
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین کی رکن ریاستوں اور کئی دیگر ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں پر جبری مشقت سے متعلق خدشات کے باعث نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کر رہا ہے۔
یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق قانونی چیلنجز کی صورت میں یہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر 10 تا 5۔12 فیصد تک یہ ٹیرف نافذ کیاہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے دفتر نے محصولات کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اب یہ محصولات نافذ کیے جا رہے ہیں۔جیمیسن گریر کے دفتر کے مطابق نئے محصولات ان شراکت داروں پر عائد کیے جا رہے ہیں جو جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اسے مؤثر طور پر نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
‘جیمیسن گریر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا راستہ روکے گا اور اس سے ہر جگہ کارکنوں کی فلاح و بہبود بہتر بنائی جا سکے گی۔گریر نے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کا حوالہ دیا، جو ایسی پالیسیوں کے خلاف امریکی تجارتی نفاذ سے متعلق ہے جو امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہیں یا اسے محدود کرتی ہیں۔گریر کا کہنا تھا کہ نئے محصولات امریکہ کے سرفہرست 60 تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوتے ہیں، جو امریکی درآمدات کے99اعشاریہ 4 فیصد کا احاطہ کرتے ہیں۔
اُن کے مطابق صدر ٹرمپ نے جبری مشقت سے تیار کردہ درآمدات پر پابندی اپنانے کو دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدوں کا ایک’اہم‘ حصہ قرار دیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں گریر کا کہنا تھا کہ ’امریکی کارکنوں کو جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کا مقابلہ کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارے تجارتی شراکت دار ایسی مصنوعات کے لیے اپنے دروازے بند کرنے سے انکار کرتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ محصولات (ٹیرف) عائد کر کے اس غلطی کی اصلاح کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال مختلف ممالک پر نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر درست نہیں تھے اور انھیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔صدر ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ٹیرف عائد کرنے کے لیے دیگر راستے اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ’جبری مشقت‘ کو جواز بنا کر اب یہ ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی، چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو “مکمل طور پر من مانا” اور “بلاجواز” قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس “کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں” اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ نئے فیصلے کے تحت آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
PNP
Comments are closed.