اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عوامی عہدہ رکھنے والے سیاستدانوں کے کیسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ سنایا ہے جس کی زد میں کئی نامور سیاستدان آئیں گے۔
سب نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کیس کی 50 سے زائد سماعتیں کرنے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دے دی ہیں اور عوامی عہدہ رکھنے والے سیاستدانوں کے کرپشن کیسز سات روز کے اندر دوبارہ وہیں سے شروع کرنے کا حکم دیا ہے جہاں سے یہ روکے گئے تھے۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کی زد میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت کئی نامور سیاستدان آئیں گے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹ کیسز واپس احتساب عدالت منتقل ہو جائیں گے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز بھی واپس احتساب عدالت کو منتقل ہو جائیں گے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی کیس اسپیشل جج سینٹرل سے واپس احتساب عدالت منتقل ہوگا جب کہ پی پی سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس بھی احتساب عدالت کو واپس ہو جائے گا۔
اسی طرح سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس واپس احتساب عدالت کو منتقل ہو جائے گا اور سردار مہتاب کیخلاف پی آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کا نیب کیس بھی واپس احتساب عدالت کو منتقل ہوگا۔
Trending
- سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پھر اضافہ
- بحرین میں ایران کے لیے جاسوسی، 3 افراد کو عمر قید
- محکمہ موسمیات کا مون سون 2026 آؤٹ لک جاری، گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
- جنگ کے سائے میں بھی ایرانی ریال کی فروخت جاری نئے ریٹ سامنے آگئے
- پنجاب میں ایچیسن کے معیار کے بوائز اینڈ گرلز اسکول قائم کرنے کا فیصلہ
- عامر خان کی تیسری شادی پر شیکھر سمن نے کیا کہا؟ تبصرہ وائرل
- انیا ٹیلر-جوائے نے تیموتھی چالمیٹ کی ‘ڈیون’ کی تعریف پر زندہ دل جواب شیئر کیا۔
- ولیکا ہسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرین کی تعداد 102 ہوگئی، صوبائی وزیر کا کارروائی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔