by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حملے دوبارہ ہوئے تو تنازع پورے خطے تک پھیل سکتا ہے، ایران

تہران: ایران نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کی گئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اسرائیل کی حمایت میں دوبارہ ایران پر فضائی حملے کرتا ہے یا فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بحال کرتا ہے تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی کا باعث بنیں۔

محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی پالیسیوں کے زیرِ اثر ایسے اقدامات سے اجتناب کرے جو تنازع کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متوقع دورۂ واشنگٹن کی تیاریاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں امریکا اور اسرائیل کی قیادت ایران، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری کشیدگی سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔

دوسری جانب عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ متعدد ممالک دونوں فریقوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کریں اور خطے کو کسی نئے فوجی تصادم سے بچائیں۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.