زعفرانی رنگ پر تنازع، ہاکی انڈیا نے جرسی کا رنگ تبدیل کرنے کی وجہ بتا دی
ہاکی انڈیا نے مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کی روایتی نیلی جرسی تبدیل کر کے ہاکی ورلڈ کپ 2026ء کے لیے زعفرانی رنگ اختیار کرنے پر ہونے والے تنازع پر وضاحت دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہاکی انڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے سے مشاورت کے بعد تکنیکی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
ہاکی انڈیا کے بیان کے مطابق بین الاقوامی مقابلوں میں استعمال ہونے والی نیلی مصنوعی ہاکی ٹرف پر نیلی جرسی نمایاں نہیں رہتی جس سے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کو پہچاننے اور کھیل کے دوران واضح منظر سے متعلق دشواری پیش آتی تھی۔
ہاکی انڈیا کا کہنا ہے کہ متبادل رنگوں میں پیلا اور زعفرانی رنگ زیرِ غور آیا تھا تاہم زعفرانی رنگ کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ بھارت کے قومی پرچم کا حصہ ہے۔
ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ قومی ٹیم کی جرسی کا رنگ ماضی میں بھی تبدیل ہوتا رہا ہے۔
ہاکی انڈیا کے مطابق 2014ء کے ہاکی ورلڈ کپ میں پیلی جبکہ 2018ء کے ورلڈ کپ میں آسمانی نیلی جرسی استعمال کی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تبدیلی تکنیکی ضرورت اور قومی علامتی اہمیت، دونوں پہلوؤں کو مدِنظر رکھ کر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہاکی انڈیا کی جانب سے روایتی نیلی جرسی تبدیل کرنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
سابق بھارتی کپتان ویرین راسکوئینا نے بھی سوال اٹھایا کہ بھارت کی ہاکی کی شناخت نیلی جرسی سے جڑی ہوئی ہے اور کیا ارجنٹائن کبھی اپنی روایتی فٹبال جرسی تبدیل کرے گا؟
بعد ازاں انہوں نے کہا کہ میرے مؤقف کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
PNP
Comments are closed.