by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ میں طلاق ہوگئی

نئی دہلی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی علیحدہ رہائش اختیار کر چکی اہلیہ پائل عبداللہ نے باہمی رضامندی سے اپنی 31 سالہ ازدواجی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ دونوں فریقین نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت مشترکہ درخواست دائر کرتے ہوئے شادی تحلیل کرنے کی استدعا کی ہے۔

جمعرات کو جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے روبرو سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں فریقین علیحدگی پر متفق ہیں اور عدالت سے درخواست کی کہ باہمی رضامندی کی بنیاد پر طلاق کی منظوری دی جائے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مشترکہ درخواست 22 جولائی کو دائر کی گئی تھی، جس پر بنچ نے مناسب حکم جاری کرنے کا عندیہ دیا۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ ایک دوسرے کے خلاف دائر تمام مقدمات واپس لینے پر بھی متفق ہو چکے ہیں، جسے عدالتی حکم کا حصہ بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ عمر عبداللہ نے پہلے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں انہیں طلاق دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل معاملہ مصالحت کے لیے سپریم کورٹ میڈی ایشن سینٹر بھی بھیجا گیا، تاہم بعد ازاں دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔

عمر عبداللہ اور پائل عبداللہ کی شادی یکم ستمبر 1994 کو ہوئی تھی۔ دونوں 2009 سے الگ رہ رہے ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ فیملی کورٹ نے 2016 میں عمر عبداللہ کی طلاق کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ دسمبر 2023 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اب دونوں نے باہمی رضامندی سے سپریم کورٹ میں شادی ختم کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے، جس پر عدالت جلد فیصلہ سنائے گی۔

PNP

Comments are closed.