ایران میں اسلام آباد معاہدے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، ترجمان ایرانی وزارتِ داخلہ
ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ اسلام آباد معاہدے کی بحالی اور فریقین کے درمیان مسائل کے حل کے لیے سفارتی رابطے اور بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران میں پریس بریفنگ کے دوران علی زینی وند نے کہا کہ ایران کی جانب سے واضح مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دوسرے فریق کو اسلام آباد معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ یہ کوئی معمولی سمجھوتا نہیں بلکہ ایسا معاہدہ ہے جس کی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے دی جبکہ سپریم لیڈر کی جانب سے بھی اس کی توثیق کی گئی، اس لیے اسے ریاستی نظام کے باضابطہ فیصلے کی حیثیت حاصل ہے۔
علی زینی وند کے مطابق ایران کی جانب سے فعال سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں ایرانی صدر کی بھارت اور کرغزستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ مختلف فریقوں کے ساتھ وسیع مشاورت بھی کی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری مغربی پابندیوں کے باعث مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اشیا کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے تمام متعلقہ ادارے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
جنگ کے بعد ملک کی بحالی سے متعلق علی زینی وند نے کہا کہ تباہ ہونے والے شہری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق رہائشی مکانات اور عوامی خدمات سے متعلق عمارتوں، جن میں پولیس اسٹیشنز بھی شامل ہیں، کی مرمت کو ان منصوبوں پر ترجیح دی جا رہی ہے جنہیں فی الحال مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ دشمن کے حملوں کے نتیجے میں ہرمزگان اور گلستان سمیت مختلف ایرانی صوبوں میں تقریباً 75 ہزار رہائشی یونٹس متاثر ہوئے، جبکہ بعض بنیادی ڈھانچے اور رابطہ پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق حکومت کی توجہ اس وقت متاثرہ شہری آبادی کو سہولیات کی بحالی اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو پر مرکوز ہے۔
PNP
Comments are closed.