by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران پر حملہ ہوا تو کن ممالک کی توانائی تنصیبات نشانے پر ہوں گی؟

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران جوابی کارروائی میں خطے کے بعض اہم توانائی مراکز کو ہدف بنا سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی سے متعلق رپورٹس کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں خطے کی مختلف اہم توانائی تنصیبات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سعودی عرب کی غوار آئل فیلڈ، ابقیق اور خریص آئل پروسیسنگ مراکز شامل ہیں۔ یہ تنصیبات سعودی عرب کے تیل پیداوار اور برآمدی نظام میں اہم مقام رکھتی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی زکوم آئل فیلڈ اور الرویس ریفائنری بھی خطے کے بڑے توانائی مراکز میں شامل ہیں، جبکہ قطر کے نارتھ فیلڈ گیس ذخائر اور راس لفان ایل این جی مرکز کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں غیر معمولی دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ایرانی میڈیا نے کویت کے برگان آئل فیلڈ، بحرین کی سترا ریفائنری اور اسرائیل کی لیویاتھن، تمار اور دیگر گیس فیلڈز کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں توانائی کے راستوں، تیل کی پیداوار اور عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.