ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں،قائم مقام ایرانی وزیر دفاع
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے موصول ہونے والی ہر دھمکی کو حقیقی تصور کرتے ہوئے مکمل سنجیدگی سے لیتا ہے اور اسی بنیاد پر اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ حالیہ بیانات نفسیاتی اور ادراکی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، تاہم ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کرتا اور ہر صورتحال کے لیے تیار رہتا ہے۔
سید مجید ابن الرضا کا کہنا تھا کہ ایران نہ کسی اچانک پیش آنے والی صورتحال پر حیران ہوگا اور نہ ہی غیر فعال رہے گا۔ ان کے مطابق ہر ممکنہ دھمکی کو دفاعی صلاحیت، عسکری تیاری اور قومی طاقت میں اضافے کا موقع سمجھا جاتا ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کرتے ہوئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایک مجوزہ معاہدے پر غور جاری ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بلا رکاوٹ بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور شامل ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے کے کئی ممالک کی درخواست پر ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کی گئی تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تاہم سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
PNP
Comments are closed.