by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کامن ویلتھ گیمز اختتام پذیر، پاکستان ایک کانسی کے تمغے تک محدود

— تصویر بشکریہ رپورٹر

گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز اختتام پذیر ہو گئے۔

ان عالمی مقابلوں میں 74 ممالک کے 3 ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کا 36 رکنی دستہ بھی میدان میں اترا، جس میں 20 کھلاڑی اور 16 کوچز و دیگر انتظامی افراد شامل تھے۔

پاکستانی کھلاڑیوں نے باکسنگ، ایتھلیٹکس، سوئمنگ، جمناسٹکس، جوڈو اور لان بالز سمیت مختلف کھیلوں میں حصہ لیا، تاہم پاکستان صرف ایک کانسی کا تمغہ حاصل کر سکا، یہ اعزاز باکسر فاطمہ زہرا نے حاصل کیا، جنہوں نے شاندار مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے واحد کامیابی حاصل کی۔

نیزہ بازی میں ارشد ندیم سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، تاہم وہ اس مرتبہ کوئی تمغہ حاصل نہ کر سکے۔

ان کی کارکردگی اگرچہ توجہ کا مرکز رہی، لیکن پاکستانی شائقین کو ان سے بہتر نتیجے کی امید تھی۔

کھیلوں کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی کم تمغے حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ اس بار کامن ویلتھ گیمز میں ہاکی، اسکواش، ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ جیسے کھیل شامل نہیں تھے، جن میں پاکستان ماضی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کے لیے کھیلوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات، نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش، جدید تربیت، بہتر سہولتیں اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہاکی، اسکواش، ریسلنگ اور دیگر روایتی کھیلوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں کے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ مستقبل میں پاکستان زیادہ تمغے حاصل کر سکے۔

کامن ویلتھ گیمز کی اختتامی تقریب میں شریک ممالک کے کھلاڑیوں کی آخری پریڈ، تمغوں کی تقسیم، موسیقی اور ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے، ان مقابلوں کا افتتاح برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم نے کیا تھا۔



PNP

Comments are closed.