ورلڈ کپ حصص فروخت کرنے کی کوشش، اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کی فیفا قیادت پر سخت تنقید
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش کو فیصلہ سازی کی سنگین ناکامی اور اعتماد کی بنیادی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
تینوں کنفیڈریشنز کے صدور اور جنرل سیکریٹریز کے مشترکہ کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ معاملہ پیسے کا نہیں بلکہ فٹبال کی سالمیت، شفافیت اور قیادت کے کردار کا ہے۔
خط پر اے ایف سی کے صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ، کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی، یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چےفرین، اے ایف سی کے جنرل سیکریٹری ونڈسر جان، کونکاکاف کے جنرل سیکریٹری فلپ موگیو اور یوئیفا کے جنرل سیکریٹری تھیوڈور تھیوڈوریڈس نے دستخط کیے ہیں۔
مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ فٹبال میں قیادت کسی فرد کی ملکیت نہیں بلکہ فٹبال خاندان کی جانب سے سونپی گئی ذمے داری ہے۔
ایک تجویز کو محدود مدت میں بامعنی مشاورت کے بغیر آگے بڑھایا گیا جس سے رکن ممالک کو شرائط کا مناسب جائزہ لینے کا موقع نہیں ملا۔
تینوں کنفیڈریشنز نے فیفا کی جانب سے معاملے کو رابطے کی ناکامی قرار دینے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ فیصلہ سازی کی ناکامی تھا۔
ان کے مطابق ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کی کوشش محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ فٹبال سے وابستہ اداروں کے اعتماد کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
تینوں اداروں نے فیفا کے اندرونی جائزے کی بجائے مکمل طور پر آزاد تیسرے فریق سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فیفا انتظامیہ، عملے یا فٹبال سے وابستہ کسی بھی فریق کو تحقیقات میں کردار نہیں ملنا چاہیے، جبکہ متعلقہ تمام دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں مراکش میں ہونے والے ایک اجلاس پر بھی سوالات اٹھائے گئے، تینوں کنفیڈریشنز کے مطابق فیفا کے اپنے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجلاس میں صرف ایک منتخب عہدیدار موجود تھا جبکہ فیفا کونسل کے کسی رکن یا رکن ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، انتظامی کمیٹی کے بھی صرف بعض ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے کہا کہ انتظامی کمیٹی کے مکمل ارکان کے بجائے منتخب ارکان کو بیرونِ ملک بلانا موجودہ تنازع سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
تینوں کنفیڈریشنز نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض فٹبال کے پہلے سے کیے گئے اجتماعی فیصلوں یا پیسے پر نہیں۔
2030ء اور 2034ء ورلڈ کپ کی میزبانی، ٹورنامنٹس میں توسیع اور رکن ممالک کو وسائل کی فراہمی جیسے اہم فیصلے اجتماعی طور پر کیے گئے اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ فٹبال کی ترقی کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ فیفا، کنفیڈریشنز، رکن ممالک اور ہزاروں افراد کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
فیفا کے وسیع مالی ذخائر کو بھی ذمے داری کے ساتھ رکن ممالک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
مشترکہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں جوابدہی ہونی چاہیے وہاں خاموشی اور جہاں شفافیت ہونی چاہیے وہاں فاصلے نظر آ رہے ہیں، تینوں کنفیڈریشنز نے زور دیا کہ فٹبال کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے اور قیادت ایسی ہونی چاہیے جو فٹبال کی خدمت کرے، اسے اپنے اختیار میں رکھنے کی کوشش نہ کرے۔
PNP
Comments are closed.