کراچی( پی این پی ) جماعت اسلامی نے شبر زیدی کو 1 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس کیوں بھیجا ۔۔؟ تفصیلات سامنے آ گئیں ۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان نے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کی جانب سے جماعت اسلامی پر مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ سے پیسے لے کر عوامی احتجاج اور مسائل کو دبانے کے الزامات کے خلاف1 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس جاری کردیا۔
27 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شبر زیدی نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اور بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے بیانات میں جماعت اسلامی کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔
نوٹس میں خاص طور پر اس سوال کا حوالہ دیا گیا ہے کہ جب پروگرام کے میزبان نے شبر زیدی سے پوچھا کہ ’’کیا پیسے لیتی ہے جماعت اسلامی؟‘‘ تو انہوں نے مبینہ طور پر ’’سو فیصد، سو فیصد‘‘ میں جواب دیا۔ قانونی نوٹس کے مطابق اس جواب سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شبر زیدی اپنے الزام کو محض سیاسی رائے یا تنقید کے طور پر نہیں بلکہ ایک یقینی حقیقت کے طور پر پیش کررہے تھے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے قانونی نوٹس میں کہا ہے کہ مذکورہ بیانات سے جماعت اسلامی پر خفیہ فنڈنگ، رشوت، بدعنوانی، سیاسی دھوکا دہی، عوامی مفادات سے غداری اور ریاستی عناصر کے ساتھ مبینہ ملی بھگت جیسے سنگین الزامات عائد ہوتے ہیں۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ عوامی تحریک کو غیر مؤثر بنانے کے لیے خفیہ طور پر رقم وصول کرتی ہے، انتہائی سنگین نوعیت کا الزام ہے۔
قانونی نوٹس میں شبر زیدی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں مکمل شواہد فراہم کریں، جن میں مبینہ ادائیگی کرنے والے شخص کی شناخت، رقم وصول کرنے والے فرد کا نام، ادائیگی کی رقم، تاریخ، وقت اور مقام، ادائیگی کا طریقہ، متعلقہ بینک اکاؤنٹ یا مالیاتی دستاویز، مبینہ احتجاج یا عوامی مسئلے کی تفصیل، لین دین کے گواہان، دستاویزات، ریکارڈنگز اور وہ ذریعہ شامل ہے جس کی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا گیا۔
جماعت اسلامی نے شبر زیدی سے 7 روز کے اندر تمام الزامات فوری طور پر واپس لینے، آئندہ ایسے بیانات دینے یا نشر کرنے سے باز رہنے اور جماعت اسلامی پاکستان سے بلا مشروط، غیر واضح اور غیر مشروط تحریری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
PNP
Comments are closed.