شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی
دمشق: شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنانے کا حکم دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے بشار الاسد کے دور میں سیکیورٹی عہدیدار رہنے والے اور ان کے کزن عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔ عدالتی کارروائی کے وقت عاطف نجیب عدالت میں موجود تھے۔
عدالت کے مطابق بشار الاسد کو مبینہ طور پر پیشگی منصوبہ بندی اور دانستہ قتل کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی۔ تاہم سابق صدر عدالت میں موجود نہیں تھے۔
بشار الاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد 2000 میں شام کی صدارت سنبھالی تھی اور دسمبر 2024 تک ملک پر حکمرانی کی۔
2011 میں عرب بہار کے دوران شام میں حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے، جن کے خلاف حکومتی کارروائی کے بعد صورتحال ایک طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔ اس تنازع کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی ہوئی۔
دسمبر 2024 میں باغی گروہوں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد وہ روس منتقل ہوگئے، جس کے نتیجے میں شام میں ان کے خاندان کی کئی دہائیوں پر محیط حکمرانی اختتام پذیر ہوگئی۔
PNP
Comments are closed.