نئی دہلی: بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں حکام نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا۔
رپورٹس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں بتایا کہ ربیع الاول کی آمد کے موقع پر ان پر دوبارہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
میر واعظ نے ہر جمعہ کو پابندیوں کے نفاذ کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر ہونے کے بھارتی دعوے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات واقعی معمول کے مطابق ہیں تو انہیں بار بار جامع مسجد جانے سے کیوں روکا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی اجتماعات میں شرکت سے روکنے کے اقدامات حکام کے اپنے دعووں کے برعکس صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
میر واعظ عمر فاروق نے اس موقع پر جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کی مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اس بابرکت مہینے میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرت، رحمت، عدل، حسنِ اخلاق اور انسانیت کی خدمت کے پیغام کو یاد کریں۔
دوسری جانب جامع مسجد سری نگر کی انتظامی تنظیم انجمن اوقاف نے اعلان کیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق پیر 17 اگست کو خواجہ بازار میں واقع تاریخی خانقاہ نقشبند صاحبؒ میں خصوصی خطاب کریں گے۔
انجمن اوقاف کے مطابق خصوصی پروگرام خواجہ دگر کے موقع پر منعقد ہوگا، جس کا وقت نمازِ ظہر سے نمازِ عصر تک مقرر کیا گیا ہے۔
PNP
Comments are closed.