by Rao Imran Suleman
Rao Nama

بدین: مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کو ڈی آئی جی نے منشیات فروش قرار دیا

فوٹو: اسکرین گریب  جیو نیوز 

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) حیدرآباد ریجن نے بدین کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کو منشیات فروش قرار دیتے ہوئے ورثاء کے جعلی پولیس مقابلے کے الزام کو مسترد کر دیا۔

 ڈی آئی جی طارق دھاریجو نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پولیس مقابلہ جعلی نہیں تھا، تو تحقیقات کیوں کریں، لوگوں نے لائیو دیکھا، مقابلے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوئے، اسپتال جاکر معلوم کریں کہ دونوں اہلکار کس طرح موت کے منہ سے نکلے۔

خیال رہے کہ مبینہ پولیس مقابلہ بدین کے علاقے کڈھن میں 26 جولائی کو ہوا۔ رورل ہیلتھ سینٹر کڈھن کے ڈاکٹر نے پوسٹمارٹم رپورٹ 30 جولائی کو ریلیز کی۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ لاش ملنے کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دینا لازمی ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محرم دل کو پہلی گولی گردن، دوسری پیٹھ کے بائیں کندھے پر لگی جو سینے کے قریب سے نکلی، تیسری گولی دائیں پسلیوں کے نیچے لگی جو آر پار ہوئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق محرم دل کو چوتھی گولی دائیں بازو کو لگ کر دائیں بغل کے نیچے سے نکلی، پانچویں گولی بائیں کندھے کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر آر پار ہوئی، چھٹی گولی دائیں ران کے اوپر لگی، ساتویں بھی دائیں ران پر لگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محرم دل کو گردن پر غذائی نالی، گردنی مہرے، شہ رگ اور آواز کے تار کو نقصان پہنچایا، گولیوں کی وجہ سے بائیں پھیپھڑا، دل اور اس کی بڑی رگوں کو نقصان پہنچا۔

محرم دل کی ہلاکت کے واقعے پر ورثا نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیے جانے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جبکہ مقدمے کے اندراج کے لیے والدہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت 25 اگست کو ہوگی۔



PNP

Comments are closed.