by Rao Imran Suleman
Rao Nama

25 سال بعد نائن الیون کیس کا ٹرائل شروع کرنے کی تاریخ مقرر

واشنگٹن: امریکا میں قائم فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے خالد شیخ محمد سمیت 4 ملزمان کے باقاعدہ ٹرائل کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق مقدمے کی کارروائی 5 جون 2028 سے شروع ہوگی۔ خالد شیخ محمد کو امریکی حکام نائن الیون حملوں کا مبینہ مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتے ہیں۔

خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں امریکی تحویل میں منتقل کیا گیا۔ وہ طویل عرصے سے کیوبا میں قائم گوانتانامو بے حراستی مرکز میں قید ہیں۔

عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے نائن الیون حملوں کو تقریباً 25 برس مکمل ہونے والے ہیں۔ ان حملوں نے امریکا کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

نائن الیون حملوں کے دوران ہائی جیکرز نے چار مسافر طیاروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، جبکہ ایک طیارہ واشنگٹن کے قریب پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ 93، مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر وسیع فوجی اور سکیورٹی کارروائیاں شروع کیں۔

خالد شیخ محمد کی گرفتاری پاکستان میں 2003 کے دوران عمل میں آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، بعد ازاں انہیں امریکی تحویل میں دے دیا گیا اور گوانتانامو بے منتقل کیا گیا۔

خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کئی برس سے مختلف قانونی اور انتظامی معاملات کے باعث تاخیر کا شکار رہی ہے۔ مقدمے میں شواہد، ملزمان کے قانونی حقوق اور دورانِ تفتیش مبینہ سلوک سمیت متعدد امور پر قانونی بحث ہوتی رہی ہے۔

تازہ عدالتی حکم کے بعد ٹرائل کے آغاز کیلئے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے۔ تاہم مقدمے کی طویل قانونی تاریخ کو دیکھتے ہوئے آئندہ عدالتی درخواستوں یا دیگر قانونی پیش رفت کے نتیجے میں شیڈول میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

PNP

Comments are closed.